ایکسکلوزو: کیسے بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائک کو دیاگیا انجام؟ مراج کے پائلٹ نے بتائی پوری کہانی

دونوں پائلٹوں سے جب پوچھا گیا کہ اسٹرائک کے بعد آخرانہوں نے کیا کیا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا جواب کافی دلچسپ تھا۔۔ جانیں یہاں پائلٹ نے کیا کہا؟

Jun 25, 2019 10:39 AM IST | Updated on: Jun 25, 2019 11:18 AM IST
ایکسکلوزو: کیسے بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائک کو دیاگیا انجام؟ مراج کے پائلٹ نے بتائی پوری کہانی

علامتی تصویر

اس سال 26 فروری کو ہندستان نے پاکستان کے بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائک کیا تھا۔ ایک ایساحملہ جس میں سیکڑوں کی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس مشن کیلئے ہندستانی فضائیہ نے کئی دنوں تک پریکٹس کی تھی۔  حملہ کب کرنا ہے۔۔ کیسےانجام دینا ہے اس کو لیکر کانوں کان کسی کو خبر تک نہیں تھی۔ اس سیکریٹ مشن کے بارے میں پی ایم مودی کے علاوہ  ایئر فورس کے اعلی افسران اور صرف پائلٹ ہی جانتے تھے۔ نیوز 18 انڈیانے اس ایئر اسٹرائک کو انجام دینے والے دو پائلٹ سے ایکسکلوزو بات چیت کی۔ ان دونوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائک کی پوری کہانی بتائی۔۔۔

کئی دنوں تک کی گئی پریکٹس: 26 فروری کو صبح 2 بجے سے 4 بجے تک مراج نے سرجیکل اسٹرائک کیلئے ایئر بیس سے اڑان بھری تھی۔ ٹارگیٹ تھا بالاکوٹ میں جیش کا دہشت گرد اڈہ۔ پائلٹ  نے بتایا کہ اسٹرائک سے کچھ دن پہلے ہی ان کی ٹریننگ شروع ہو گئی تھی۔ ہندستانی فضائیہ کے مراج 2000 کے تینوں اسکوارڈن مسلسل اس کی پریکٹس کر رہے تھے۔۔۔

مشن پر جانےوالے پائلٹ کو نہیں تھی جانکاری: کسی کو یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ کون اس مشن پر جانے والا ہے۔ مسلسل مراج اڑان بھر رہے تھے اور اپنےت ٹٓرگیٹ تک پہنچنے کیلئے پریکٹس کر رہے تھے۔ اس وقت طیاروں میں کسی بھی طرح کا پولوڈ نہیں لگاتھا۔ جس دن اسٹرائک ہونی تھی۔ اس کے ٹھیک ایک دن پہلے تقریبا شام 4 بجے ایئر کرافٹ میں مینٹیننس ٹیم کو یہ بتایا گیا کہ مراج میں کون۔کون سے بم اور میزائل لگائے جانے ہیں۔ اسپائز 2000 اور کرسٹل میز بموں کو الگ الگ جیٹ میں لگایا گیاتھا۔۔۔

پائلٹ نے گھر والوں کو نہیں بتایا: 6۔6 مراج طیاروں کے دو پیکج کیلئے جن 12 پائلٹوں کو منتخب کیاگیا تھا ان میں سے ایک پائلٹ نے بتایا کہ ویسے تو تیاری روز تیاری ہو رہی تھی اور وہ کسی مہم کا حصہ بننے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن اس وقت انہیں اس مشن کیلئے منتخب کیا گیا تو کافی پر جوش تھے لیکن وہ فیملی اور دوستوں کے سامنے نارمل رویہ اختیار کر رہے تھے۔ جس سے اس مشن کو راز رکھا جاسکے۔۔  دراصل اس مشن کی کامیابی ٹکی تھی اس کی رازداری پر اور یہ ہندستانی فضائیہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج تھا جسے بہتر طریقے سے انجام دیا جانا تھا۔۔۔

Loading...

بم گراکر فوراً واپس لوٹنا تھا: پائلٹوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ وہ ایل اوسی پار کرکے کتنے اندر تک گئے تھے لیکن یہ ضرور شیئر کیا کہ وہ طے کئے  گئے ٹیکنیکل روٹ کو فالو کرتے ہوئے اپنے ٹارگیٹ تک پہنچے تھے۔ جن 6 مراج کو اسپائس بم گرانا تھا ان کیلئے صاف ہدایات تھیں کہ بم ڈراپ کرکے فورا واپس لوٹنا ہے۔ پائلٹوں نے ویسا ہی کیا۔۔

 محض 60سے 90 سیکنڈ میں واپس لوٹے

ایک پائلٹ نے بتایا کہ ٹارگیٹ کے پاس پہنچتے ہی پہلے سے ہی پروگرام کئے ہوئے اسپائس بم کو انہوں نے رلیز کردیا اور محض 60سے 90 سیکنڈ میں وہ ہندستانی سرحد کے پاس کے ایئر فیلڈ میں لینڈ کر گئے۔ اس مراج کے پیکج کو ہندستانی فضائیہ کے دوسرے طئارے بھی مسلسل نگرانی اور سپورٹ دےرہے تھے۔۔۔

ان ٹھکانوں پر کئے گئے تھے حملے۔۔

حملے کے بعد دو دن تک سوتے رہے 

دونوں پائلٹوں سے جب پوچھا گیا کہ  اسٹرائک کے بعد آخرانہوں نے کیا کیا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دو دن تک بس آرام کرتےرہے اور سوتے رہے۔۔

کہاں گرانا ہے بم پہلے سے تھا طے۔۔

ایک پائلٹ نے بتایا کہ پوری طرح سے پہلے سے ہی پروگرام طے تھا جو تارگیٹ اس میں سیٹ کیا گیا تھا وہ جی پی ایس سے کنیکٹ تھا۔ بم کو پہے سے ہی طے کیا گئی جگہ پر رلیز کیا گیا۔ کارگل  کے دوران کچھ تصوریں ایسی نظر آئیں تھی جن میں بم پر کچھ نہ کچھ پاکستان کیلئے پیغام لکھا ہوتا تھا لیکن جب پائلٹوں سے پوچھا گیا کہ کیا ان اسپائس بم پر بھی پاکستان کیلئے کچھ لکھا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ اسپائس بم اتنا خوبصورت ہے کہ اس پر کچھ لکھنے کا من ہی نہیں کرتا۔ ہندستانی فضائیہ نے 5 اسپائس بم کو بالاکوٹ میں لانچ کیا تھا۔۔

(رپورٹ:سندیپ بول)

Loading...