உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق سی بی آئی کی بڑی کارروائی! 50 سے زیادہ گروپ اور 5000 افراد کے خلاف منی ٹریل

    سی بی آئی نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 83 افراد کے خلاف 23 مقدمات درج کئے۔

    سی بی آئی نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 83 افراد کے خلاف 23 مقدمات درج کئے۔

    ملک گیر کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر تحقیقاتی ایجنسی نے منگل کو 14 ریاستوں میں 77 مقامات پر مربوط چھاپے مارے اور 10 ملزمان کو مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کا غیر قانونی مواد پوسٹ کرنے اور گردش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا۔

    • Share this:
      سی این این نیوز 18 (CNN-News18) کو ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چائلڈ پورنوگرافی (child pornography) کے خلاف کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے اپنی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر 50 سے زیادہ گروہوں کے ملوث ہونے کا پتہ لگایا ہے۔ جن میں 5,000 سے زیادہ مجرموں نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو شیئر کیا ہے، اس میں غیر ملکی شہری اور تقریباً 100 ملکوں کے موبائل نمبر شامل ہیں۔

      سی بی آئی کے ذرائع نے بتایا کہ تفتیشی ایجنسی متعلقہ قانونی دفعات کے تحت سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ہوسٹنگ پلیٹ فارم کے ساتھ معاملہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ان کے کردار اور ذمہ داری کی جانچ کی جا سکے۔

      جن میں 5,000 سے زیادہ افراد نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو شیئر کیا ہے
      جن میں 5,000 سے زیادہ افراد نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو شیئر کیا ہے


      ملک گیر کریک ڈاؤن کے ایک حصے کے طور پر تحقیقاتی ایجنسی نے منگل کو 14 ریاستوں میں 77 مقامات پر مربوط چھاپے مارے اور 10 ملزمان کو مبینہ طور پر انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کا غیر قانونی مواد پوسٹ کرنے اور گردش کرنے کے الزام میں حراست میں لیا۔ یہ چھاپے آندھرا پردیش، دہلی، اتر پردیش، پنجاب، بہار، اڈیشہ، تامل ناڈو، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں مارے گئے۔

      سی بی آئی نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث 83 افراد کے خلاف 23 مقدمات درج کئے۔ ان پر ویب اسپیس پر بدسلوکی کے مواد کو پوسٹ کرنے اور گردش کرنے کا الزام ہے۔

      سی بی آئی کے ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ جن 50 گروپوں میں 5000 سے زیادہ مجرم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مواد شیئر کر رہے ہیں ان میں پاکستان (36)، کینیڈا (35)، امریکہ (35)، بنگلہ دیش (31)، سری لنکا (30) شامل ہیں۔ ، نائجیریا (28)، آذربائیجان (27)، یمن (24) اور ملائیشیا (22) شامل ہیں۔

      سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے اپنی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر 50 سے زیادہ گروہوں کے ملوث ہونے کا پتہ لگایا ہے
      سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے اپنی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر 50 سے زیادہ گروہوں کے ملوث ہونے کا پتہ لگایا ہے


      ذرائع نے مزید بتایا کہ سی بی آئی غیر ملکی شہریوں سے متعلق مزید کارروائی کرنے اور سی ایس ای ایم (بچوں کے جنسی استحصال کے مواد) کی اصلیت کے بارے میں مختلف غیر ملکی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ سی بی آئی باضابطہ اور غیر رسمی چینلز کے ذریعے بہن ایجنسیوں کے ساتھ تال میل بھی کر رہی ہے۔

      منی ٹریل کی پیروی جاری:

      ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ دیکھا گیا کہ کچھ افراد مالیاتی فائدے کے لیے بچوں کے جنسی استحصال کا مواد/سی ایس ای ایم (child sexual exploitation material) کی تجارت میں ملوث تھے۔ سی بی آئی ذرائع نے بتایا کہ کئی مقامات پر الیکٹرانک گیجٹس/موبائل/لیپ ٹاپ وغیرہ کی تلاشی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی لوگ سی ایس ای ایم کو لنکس، ویڈیوز، تصاویر، متن، پوسٹس اور سوشل میڈیا گروپس/پلیٹ فارم پر اس طرح کے مواد کی میزبانی کے ذریعے پھیلا رہے تھے۔ جو کہ تھرڈ پارٹی اسٹوریج/ہوسٹنگ پلیٹ فارمس ہیں۔ ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ ملزمان ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سے منسلک اپنے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے باقاعدہ آمدنی حاصل کر رہے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: