ایکسکلوزیو انٹرویو: ’ اگر مسلم فریق چاہتا تو...‘ ایودھیا مالکانہ حق معاملہ پر یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ

نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کو دئیے ایکسکلوزیو انٹرویو میں آدتیہ ناتھ نے کہا ’’ بہتر ہوتا کہ مسلم فریق اسی وقت ثالثی کے ذریعہ اس معاملہ کو نمٹا لیتا جب سپریم کورٹ نے ثالثی کا موقع دیا تھا۔ لیکن یہ نہیں ہوا‘‘۔

Sep 19, 2019 06:23 PM IST | Updated on: Sep 19, 2019 06:40 PM IST
ایکسکلوزیو انٹرویو: ’ اگر مسلم فریق چاہتا تو...‘ ایودھیا مالکانہ حق معاملہ پر یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ

یوگی آدتیہ ناتھ کا نیوز 18 کے ساتھ ایکسکلوزیو انٹرویو

گورکھپور۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی مانا ہے کہ رام مندر تنازعہ میں یہ بہتر ہوتا کہ دونوں فریق سپریم کورٹ میں جانے کی بجائے باہمی بات چیت سے مسئلہ کو سلجھا لیتے۔ انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ کے ذریعہ معاملہ کی سماعت 18 اکتوبر تک مکمل کر لینے کے بعد کہی۔

نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کو دئیے ایکسکلوزیو انٹرویو میں آدتیہ ناتھ نے کہا ’’ بہتر ہوتا کہ مسلم فریق اسی وقت ثالثی کے ذریعہ اس معاملہ کو نمٹا لیتا جب سپریم کورٹ نے ثالثی کا موقع دیا تھا۔ لیکن یہ نہیں ہوا۔ کوئی شخص تبھی کسی نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے جب وہ مثبت ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ لیکن جب لوگ بضد ہو جاتے ہیں تو سپریم کورٹ ہی فیصلہ کر سکتا ہے‘‘۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ ’’اترپردیش حکومت سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتی ہے۔ فیصلہ حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر لیا جا رہا ہے۔ ہمیں پوری امید ہے اور ہم فیصلہ کو مانیں گے۔ اس سے پہلے بھی ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کیا ہے‘‘۔

خیال رہے کہ دہائیوں پرانے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی املاک تنازعہ معاملہ میں جلد ہی فیصلہ آنے کی امید ہے۔ ہندو فریق کی سماعت کے بعد اب مسلم فریق کی بحث بھی پوری ہونے والی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 18 اکتوبر تک ایودھیا معاملہ کی سماعت پوری ہو سکتی ہے اور جلد ہی اس پر کوئی بڑا فیصلہ آ سکتا ہے۔

دہائیوں پرانے اس معاملہ میں فیصلہ نومبر سے پہلے آ سکتا ہے۔ گزشتہ 18 ستمبر کو معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی نے اس کے اشارے دئیے تھے۔

 

 

Loading...