ہوم » نیوز » وطن نامہ

ایکسکلوزیو: صدمے میں ہیں جنسی استحصال کی شکار 30 لڑکیاں، کچھ نے کی خودکشی کی کوشش

مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں جنسی استحصال کی شکار 30 لڑکیاں دماغی طور پر بری طرح سے بیمار پائی گئی ہیں۔

  • Share this:
ایکسکلوزیو: صدمے میں ہیں جنسی استحصال کی شکار 30 لڑکیاں، کچھ نے کی خودکشی کی کوشش
مظفرپور شیلٹر ہوم جنسی استحصال معاملہ: تصویر، نیوز ۱۸

مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں جنسی استحصال کی شکار 30 لڑکیاں دماغی طور پر بری طرح سے بیمار پائی گئی ہیں۔ حکام نے نیوز 18 کو بتایا کہ ان میں سے بعض نے خودکشی اور خود کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ پٹنہ کے دو اہم اسپتالوں نالندہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل اور کوئیلور دماغی اسپتال کے ڈاکٹروں نے عصمت دری اور جسمانی تشدد کا شکار ہوئی بچیوں کا علاج کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔


اب یونیسیف کی مدد سے حیدرآباد میں واقع اینفولڈ انڈیا اور ایمس کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آج یعنی پیر کے روز ہی پٹنہ پہنچی ہے جو متاثرہ لڑکیوں کا علاج کرے گی۔


اس سے پہلے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی آڈٹ رپورٹ میں جسمانی استحصال کا سنسنی خیز انکشاف ہونے کے بعد 31 مئی کو ہی مظفرپور شیلٹر ہوم کی 42 بچیوں کو پٹنہ اور مدھوبنی بھیج دیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے طبی رپورٹ سے 24 لڑکیوں کی عصمت دری کی تصدیق ہوئی جن میں ایک سات سالہ بچی بھی شامل ہے۔


بہار حکومت کے سماجی فلاح و بہبود محکمہ کے ڈائریکٹر راج کمار نے نیوز 18 کو بتایا کہ جو لڑکیاں پٹنہ آئیں انہوں نے ایک ہفتے بعد ہی عجیب برتاؤ کرنا شروع کر دیا۔ این ایم سی ایچ کے ڈاکٹر سنتوش کمار نے ان کا علاج کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ دریں اثنا، مدھوبنی میں رکھی جانے والی لڑکیوں کا رویہ بھی باعث تشویش تھا۔

راج کمار نے بتایا کہ اس کے بعد جنسی استحصال اور تشدد کی شکار ہوئیں 30 لڑکیوں کو اتوار کو مکاما کے ناجرتھ اسپتال اور آشریہ استھل میں شفٹ کیا گیا ہے جہاں ایمس اور اینفولڈ کی ایکسپرٹ ٹیم ان کا علاج کرے گی۔ انہوں نے کہا، "ہمیں ان لڑکیوں کے جسم پر انفیکشن کے زخم ملے۔ جسمانی تعلق بنانے سے پہلے ہر دن انہیں ڈرگ ڈوز دیا جاتا تھا۔ اب ان کا رویہ اشتعال انگیز ہو گیا ہے۔ یہ کبھی گرل میں سر ٹکرانے کی کوشش کرتی ہیں تو کبھی آس پاس رکھے کسی سامان کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ "

پٹنہ میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سنتوش کمار نے نیوز 18 سے بات چیت میں رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیل سے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا پر اتنا ضرور کہا کہ 'ان لڑکیوں کو فوری طور پر مدد کی ضرورت ہے۔'

یونیسیف کے سنیل جھا نے ریپ متاثرین کے ساتھ مکاما میں کچھ وقت گزارا۔ انہوں نے نیوز 18 سے کہا کہ کچھ لڑکیوں میں خودکشی کا رجحان پایا گیا، لہذا ان کی دیکھ ریکھ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

 
First published: Jul 23, 2018 05:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading