ایکسکلوزیو: آرایس ایس نے نتن گڈکری کو سونپا شیوسینا سے تنازعہ سلجھانے کا ذمہ، 7۔8 نومبر کو حلف لے گی نئی حکومت

مہاراشٹر میں موجودہ حالات کو سنبھالنے کیلئے مرکزی وزیرنتن گڈکری کو کمان سونپی جاسکتی ہے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ نتن گڈکری کو شیوسینا اور بی جے پی کو ایک منچ پر ساتھ لانے کے لئے آگے بھیجا جا سکتا ہے۔

Nov 06, 2019 09:20 AM IST | Updated on: Nov 06, 2019 10:15 AM IST
ایکسکلوزیو: آرایس ایس نے نتن گڈکری کو سونپا شیوسینا سے تنازعہ سلجھانے کا ذمہ، 7۔8 نومبر کو حلف لے گی نئی حکومت

Union Minister Nitin Gadkari with Maharashtra CM Devendra Fadnavis. (PTI)

مہاراشٹرمیں حکومت سازی پربی جے پی اورشیو سینا کے درمیان جاری رسہ کشی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج کے 12 دن بعد بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور شیوسینا میں حکومت کی تشکیل کو لیکر رسہ کشی جاری ہے۔ ایک طرف شیوسینا کے لیڈر اور سامنا کے ایڈیٹر سنجے راوت مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ  ریاست میں ان کی پارٹی کا وزیر اعلی ہوگا تو وہیں بی جے پی اپنے پرانے دعوے پر قائم ہے  کہ حکومت دیویندر فڑنویس کی سربراہی میں ہی بنے گی۔

ان سب کے درمیان منگل کے روز فڑنویس نے  آر ایس ایس کے  سر سنگھ چالک  موہن بھاگوت سے ملاقات کی۔ مانا جارہا ہے کہ اس میٹنگ میں ریاست میں حکومت کی تشکیل کو لیکر بات۔چیت ہوئی۔ نیوز18 کو ملی ایکسکلوزیو اطلاع کے مطابق ریاست میں 7 یا 8 نومبر کو نئی حکومت حلف لے سکتی ہے۔

نتن گڈکری کو مل سکتی ہے حالات کو سنبھالنے کی کمان

وہیں مہاراشٹر میں موجودہ حالات کو سنبھالنے کیلئے مرکزی وزیرنتن گڈکری کو کمان سونپی جاسکتی ہے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ نتن گڈکری کو شیوسینا اور بی جے پی کو ایک منچ پر ساتھ لانے کے لئے آگے بھیجا جا سکتا ہے۔

Loading...

خیال رہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے ، لیکن ریاست میں حکومت سازی کی سمت میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ وہاں برسراقتدار بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان اقتدار میں شراکت داری کو لے کر اختلافات برقرار ہیں ۔ شیو سینا نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر اشارہ دیا کہ اس نے وزیر اعلی عہدہ کیلئے اپنے دعوی کو نہیں چھوڑا ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ اقتدار میں مساوی شراکت داری کا مطلب اعلی عہدہ میں شراکت داری بھی ہے ۔

شیو ینا نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بی جے پی پر استعمال کرنے اور چھوڑنے کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں لکھا گیا ہے کہ لوک سبھا الیکشن سے پہلے اتحاد قائم کرنے کے وقت دونوں پارٹیوں کے درمیان جو بھی طے ہوا ، اس پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ شیو سینا کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے ان خبروں کو افواہ قرار دیا کہ ان کی پارٹی نے مہاراشٹر میں اتحادی ساتھی بی جے پی کے ساتھ اقتدار کی ساجھیداری کے معاملہ پر اپنا رخ نرم کرلیا ہے ۔

راوت نے ٹویٹ کیا کہ یہ خبر افواہ ہے کہ شیوسینا نے اپنے رخ کو نرم کرلیا ہے۔ عہدوں کی مساوی تقسیم پر سمجھوتہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام سب جانتے ہیں ، بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان جو طے ہوا تھا ، وہ ہوگا ۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com