உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کورونا وبا کے دوران بے خوابی کا مرض کیا ہے؟ جانیے اس سے نمٹنے کا طریقہ کار

    Explained: کورونا وبا کے دوران بے خوابی کا مرض کیا ہے؟ جانیے اس سے نمٹنے کا طریقہ کار

    ڈاکٹر میڈالی کا کہنا ہے کہ اپنے وقت کا شیڈول طئے کریں۔ سونے سے پہلے سکون اور آرام حاصل کرنے کے لیے ہر شخص کو بستر پر جانے سے پہلے ایک گھنٹہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین اور دیگر آلات کو بند رکھیں، کیونکہ کسی بھی آلے کی سکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی (blue light) دماغ کو میلاٹونن (melatonin) پیدا کرنے سے روکتی ہے۔ جو کہ نیند کے لیے معاون ہوتا ہے۔

    • Share this:
      عالمی وبا کورونا وائرس (CoVID-19) نے ہماری زندگی کو بہت سے طریقوں سے اور بہت سی سطحوں پر متاثر کیا ہے۔ گھر اور کام کی جگہوں پر کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی سے ہماری جسمانی اور ذہنی تندرستی پر اثر پڑرہا ہے اور یہ سب مستقل مزاجی کے خلاف ہے۔ طویل دورانیہ تک کام اور وقت پر نیند نہ آنا یہ خود بیماری ہے، اس کے صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ سراسر غیر یقینی صورتحال ہے۔

      "یہ کب تک ایسا ہوتا ہے؟" "ہم کب تک اس کی روک تھام کرسکیں گے؟" "کیا ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں؟" "کیا ہم زندہ رہیں گے؟" "کیا ہمارے پیارے بچ جائیں گے؟" - اس طرح کے بے شمار سوالات ہر دوسرے منٹ میں ہمارے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے سوالات نہ صرف جاگتے، اٹھتے اور دوڑتے وقت بلکہ سوتے وقت بھی اکثر لوگوں کے ذہن میں دوڑ رہے ہیں۔ وہیں بہت سارے ایسے بھی ہیں جو سو بھی نہیں سکتے ہیں۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا میں بہت سوں کے لیے اچھی نیند کو مشکل بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر اور صحت کے ماہرین اس رجحان کو "کورونا سومنیا" (Coronasomnia) قرار دے رہے ہیں۔ در حقیقت 2020 میں لفظ "بے خوابی" (insomnia) کو جس وقت وضع کیا گیا تھا اس سے پہلے کے مقابلے میں اب یہ کہیں زیادہ ہے۔

      • کووڈ۔19 اور بے خوابی:


      ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organisation) کے ایک سروے کے مطابق کووڈ۔19 اور اس کے نتیجے میں عائد پابندیوں کے سبب یہ پتہ چلا ہے کہ غم ، تنہائی ، آمدنی میں کمی اور خوف ذہنی صحت کے حالات کو متحرک کررہے ہیں یا موجودہ حالات کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو شراب اور منشیات کے استعمال اور بے خوابی سے اضطراب کی بڑھتی ہوئی سطح کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا COVID-19 خود اعصابی اور ذہنی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے، جیسے دل کے امراض، اشتعال انگیزی اور فالج وغیرہ۔ دماغی ، اعصابی یا مادے کے استعمال سے متعلق امراض سے متاثرہ افراد میں سارس کووی 2 (SARS-CoV-2) انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہیں۔ ان کے سنگین نتائج اور یہاں تک کہ موت کا بھی زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

      نفسیاتی اور طرز عمل سائنس (Psychiatry and Behavioral Sciences) کے پروفیسر اور اسٹینفورڈ سلیپ ہیلتھ اینڈ انسومنیا پروگرام (ایس ایچ آئی پی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راچیل مانبر (Dr Rachel Manber) کا کہنا ہے کہ بے خوابی کی شکایت اور نیند کے بعد ہونے والی شکایت (circadian rhythm sleep-wake disorders ) وہ دو عوارض ہیں جن کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ بے خوابی کی وجہ سے گرنے یا سوتے رہنے میں دشواری ہوتی ہے جو نیند کے لئے مناسب موقع ہونے کے باوجود ہوتی ہیں جن کی وجہ سے دیگر طبی یا نفسیاتی امراض یا مادہ کے استعمال سے بہتر وضاحت نہیں کی جاتی ہے۔ اسے سرکیڈین تال نیند ویک کی خرابی (circadian rhythm sleep-wake disorders ) کے طور پر تجربہ کیا جاتا ہے۔

      World Sleep Day: آج منایا جارہا ہے کہ ورلڈ سلیپ ڈے ، جانئے روزانہ کتنی دیر سوتے ہیں ہندوستان کے لوگ . Image/shutterstock
      علامتی تصویر ۔


      • کورونا سومنیا (Coronasomnia) کے اسباب کیا ہیں؟


      اگرچہ دیگر نفسیاتی عوارض کا پتہ لگانے اور اس کی تشخیص کرنا مشکل ہے، لیکن بے خوابی اس حقیقت کے طور پر سب سے نمایاں اور قابل علاج ہے۔ نیند جسمانی اور نفسیاتی فلاح و بہبود کے لئے اہم ہے، یہ انفیکشن سے لڑنے کے لیے لچک اور استثنیٰ کو بھی قابل بناتا ہے۔ نیند کی کمی ہمارے میٹابولک ، خودمختار اور قوت مدافعت کے عمل پر طرح طرح کے ضمنی اثرات کا باعث بنتی ہے۔

      ایک بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں ، خواتین اور شہریوں میں بے خوابی کی بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس مطالعے میں درج ممکنہ وجوہات میں انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال، طبی اور نفسیاتی مسائل کی سابقہ ​​تاریخ ، نسبتا کم آمدنی ، نسبتا کم عمر (40 سے کم) ، جسمانی سرگرمی میں کمی ، کم تعلیم وغیرہ بے خوابی کی علامات ہیں۔

      مطالعے کے نتائج وبائی امراض سے متعلق تھے۔ ان تحقیقات میں انٹرنیٹ کے استعمال کو بھی ایک خطرہ قرار دیا گیا ہے، ہمیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں کہ انٹرنیٹ بے خوابی کے پھیلاؤ پر کیا اثر ڈالے گا۔ تاہم یہ کہا گیا کہ سوشل میڈیا کا کم استعمال، اسکرین پر کم وقت اور جسمانی سرگرمیاں اس بات کی اہم علامت ہے کہ اس سے بے خوابی سے بچا جاسکتا ہے۔

      • اس کا مقابلہ کیسے کریں؟


      بی بی سی کے مطابق برطانیہ میں نیند چیریٹی کی ڈپٹی سی ای او لیزا آرٹس (Lisa Artis) کا کہنا ہے کہ بڑے اور منفی واقعات کے بعد بے خوابی میں اضافہ ہونا عام بات ہے۔

      ان کا کہنا ہے کہ ’’چونکہ کورونا بڑی مدت سے جاری ہے۔ اسی لیے لوگ بھی طویل مدت سے بے خوابی کا شکار ہورہے ہیں۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ بے خوابی کی شرحیں کم نہ ہوں۔" وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ جب لوگ شروع کرتے وقت مدد نہیں لیتے ہیں ان کی نیند میں مبتلا ہونے کے امکانات یہ ہیں کہ ان کی نیند کے مسائل نیند کی خرابی کی شکایت بن جاتے ہیں ، یعنی بے خوابی اور بدقسمتی سے اس کی جلد درستگی نہیں ہو پاتی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ عادات بن جاتی ہے۔ ان کو توڑنا مشکل ہوتا ہے۔

      بے خوابی کے سب سے زیادہ موثر علاج میں سے ایک کاگنیٹیو بیہیوریل تھراپی (cognitive behavioural therapy ) ہے۔ جو بنیادی خیالات ، احساسات اور طرز عمل سے نمٹنے پر زور دیتا ہے۔ امریکہ میں مقیم بے خوابی کے علاج کے ماہر اور ڈاکٹر للہبی ایپ (DrLullaby app) کی بانی ڈاکٹر لیزا میڈالی (Dr Lisa Medalie ) کا کہنا ہے کہ آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ آپ سونے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں یا آپ کا بچہ نیند کی جدوجہد کر رہا ہے۔

      سونے کی جدوجہد کے لیے کچھ طرز عمل اور طریقے کار کی تبدیلیاں لازمی ہیں جو بے خوابی سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر آپ بستر پر جاتے ہیں، 25 منٹ کے بعد سو نہیں پاتے ہیں یا رات کو جاگتے ہیں اور 25 منٹ کے بعد دوبارہ نیند نہیں آتی تو کسی کو بستر پر نہیں رہنا چاہئے۔ اس کے بجائے اٹھنے اور کچھ پرسکون سرگرمی کرنے سے ذہن کو سکون ملتا ہے، جس سے ایک غنودگی طاری ہوتی ہے ، اسی دوران نیند بھی آسکتی ہے۔

      سلیپ ہیلتھ کو لے کر اس سال ہندوستانیوں کیلئے خوشخبری ہے کہ ان کی اس ہیلتھ میں بہتری کے اشارے ملے ہیں ۔
      علامتی تصویر ۔


      ڈاکٹر میڈالی کا کہنا ہے کہ اپنے وقت کا شیڈول طئے کریں۔ سونے سے پہلے سکون اور آرام حاصل کرنے کے لیے ہر شخص کو بستر پر جانے سے پہلے ایک گھنٹہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین اور دیگر آلات کو بند رکھیں، کیونکہ کسی بھی آلے کی سکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی (blue light) دماغ کو میلاٹونن (melatonin) پیدا کرنے سے روکتی ہے۔ جو کہ نیند کے لیے معاون ہوتا ہے۔

      یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے پیرل مین اسکول آف میڈیسن میں میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر آئیلین ایم روزن (Dr Ilene M Rosen) سونے سے قبل خیالات کو لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں، خاص طور پر وہ جو ہمیں فی الحال پریشان کرتے ہیں۔ اس دوران اگلے دن کے منصوبہ کے بارے میں بھی لکھ سکتے ہیں۔

      انہوں نے آئرش ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر آپ نے جو کچھ لکھا ہے اس میں سے زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جس کے بارے میں آپ پریشان ہیں تو اس کاغذ کو کچل دیں اور اسے کوڑے دان میں پھینک دیں۔ ہمارے خیالات کو کاغذ پر لکھنے اور اسے پھینک دینے کا عمل ایک علامتی اشارہ ہے جو ہمیں بااختیار بناتا ہے اور ہمارے ذہن کو پرسکون کرتا ہے۔

      ان چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے علاوہ ورزش ، مناسب غذا ، نیند ، تازہ آکسیجن اور سورج کی روشنی کا مناسب انتظام نیند کےلیے مددگار ہوسکتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: