உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    #CourageInKargil: کارگل جنگ: جب دوستی کی پہل کے درمیان پاکستان نے دکھائے ناپاک ارادے

    کارگل جنگ: جب دوستی کی پہل کے درمیان پاکستان نے دکھائے ناپاک ارادے

    کارگل جنگ: جب دوستی کی پہل کے درمیان پاکستان نے دکھائے ناپاک ارادے

    فروری 1999 میں دہلی سے لاہور تک کی بس سروس شروع ہوئی تھی، جس میں خود اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مسافر کی طرح پاکستان پہنچے تھے۔ مئی میں پاکستانی فوج کارگل آگئی۔

    • Share this:
      21 سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 26 جولائی 1999 کو ہندوستان نے کارگل (Kargil War) میں پاکستان پر جیت حاصل کی تھی۔ تقریباً 60 دنوں تک چلی یہ لڑائی برفیلے علاقوں میں ہندوستانی فوج کی جانبازی اور بہترین ہمت کی ایک مثال ہے۔ خود پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے مانا تھا کہ کارگل پر حملہ پاکستانی فوجیوں کے لئے قہر بن کر ٹوٹا۔ مانا جاتا ہے کہ اس لڑائی میں پاکستان نے 2 ہزار سے زیادہ فوجی گنوا دیئے تے اور 1965 اور 1971 کی لڑائی سے بھی زیادہ نقصان جھیلا تھا۔ حالانکہ مارے گئے پاکستانی فوجیوں کی تعداد کی کبھی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ جانئے، کیا ہے کارگل جنگ کی پوری کہانی۔

      پاکستان نے کی دراندازی

      کارگل جنگ کو آپریشن وجے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 1999 کی مئی سے جولائی کے درمیان کشمیر کے کارگل ضلع میں ہوئی مسلح جنگ ہے۔ تب پاکستانی فوجیوں نے ہندوستان - پاکستان کی سرحد پار کرکے ہندوستان کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے انہوں نے کشمیری دہشت گردوں کی مدد بھی لی تھی۔ پاکستان کا مقصد اس دراندازی کے ذریعہ سیاچن گلیشیر سے انڈین آرمی کو ہٹا دینا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے آپریشن بدر شروع کیا اور فوجیوں کو کارگل بھیجا۔

      کارگل جنگ برفیلے علاقوں میں ہندوستانی فوج کی جانبازی اور ہمت کی ایک بہترین مثال ہے۔
      کارگل جنگ برفیلے علاقوں میں ہندوستانی فوج کی جانبازی اور ہمت کی ایک بہترین مثال ہے۔


      پاکستانی فوج نے کی تھی لمبی لڑائی کی تیاری

      جلدی ہی پاکستانی فوج دراندازی میں کامیاب ہوئے اور کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کرنے لگے۔ ان کے ساتھ بھاری مقدار میں رسد بھی تھا، یعنی وہ ایک طرح سے لمبی جنگ کے لئے تیار تھے۔ اسی دوران ایک چرواہے کے ذریعہ ہماری فوج کو پاکستانی فوجیوں کی دراندازی کی خبر ملی۔ یہ تین مئی 1999 کی بات ہے۔ اطلاع کے لئے جب ہندوستانی فوجی کی ٹکڑی وہاں پہنچی تو پاکستانی فوجیوں نے انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے ہمارے 5 فوجی مارے گئے۔ تب ہندوستانی فوج نے حکمت عملی تیار کرکے پاکستانی فوج کو سبق سکھانے کے لئے اس کے خلاف ایک آپریشن چلایا، جسے آپریشن وجے نام دیا گیا۔ ہندوستانی فوج اور فضائیہ نے پاکستان کے قبضے والے مقامات پر حملہ کیا اور آخر کار تقریباً 60 دنوں میں جنگ ہندوستان کی جیت کے ساتھ ختم ہوا۔

      ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 1999 کی مئی سے جولائی کے درمیان کشمیر کے کارگل ضلع میں ہوئی مسلح جنگ ہے۔
      ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 1999 کی مئی سے جولائی کے درمیان کشمیر کے کارگل ضلع میں ہوئی مسلح جنگ ہے۔


      کیا تھی ہندوستانی فوج کی مشکل

      کارگل جنگ ہندوستانی فوج کے لئے کافی مشکلات سے بھرا ہوا تھا۔ پاکستان کے فوجیوں نے اونچی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا، جہاں تک گولہ بارود برسانا مشکل تھا۔ وہیں ہمارے فوجی چھپے ہوئے تھے اور ان کا نقصان کافی ہوسکتا تھا۔ ہندوستانی جوانوں کا آڑ لے کر یا رات میں چڑھائی کرکے اوپر پہنچنا پڑ رہا تھا، جو کہ بہت خطرہ بھرا کام تھا۔ تب بھی فوجیوں نے ہار نہیں مانی اور ہمت وحوصلہ دکھاتے ہوئے پاکستان کے ناپاک ارادوں کو دھول چٹا دی۔

      ہندوستانی فضائیہ نے برپا کیا قہر

      ویسے اس جیت میں ہندوستانی فضائیہ کا بھی اہم کردار رہا۔ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے خلاف مگ -27 اور مگ -29 کا استعمال کیا اور جہاں بھی پاکستان نے قبضہ کیا تھا، وہاں بم گرائے گئے۔ ساتھ ہی آر-77 میزائل سے حملہ کیا گیا۔ اس دوران بھاری مقدار میں گولے داغے گئے۔ لڑائی کے دو ہفتوں سے زیادہ تو جدوجہد اتنی زیادہ تھی کہ ہر منٹ میں ایک راونڈ فائر ہوا۔ 60 دنوں تک چلی اس لڑائی میں ہندوستان کے 527 جوان شہید ہوئے اور تقریباً 1300 جوان زخمی ہوئے۔ وہیں پاکستان کے 2 ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ حالانکہ پاکستان نے کبھی اس کی آفیشیل طور پر تصدیق نہیں کی۔

      کارگل جنگ کے دوران اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم تھے۔
      کارگل جنگ کے دوران اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم تھے۔


      کارگل وجے دیوس

      اس دوران اٹل بہاری واجپئی ملک کے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے پاکستان پر ہندوستان کی جیت کا اعلان 14 جولائی کو ہی کردیا تھا، لیکن اس کا آفیشیل اعلان 26 جولائی کو کیا گیا۔ تب سے ہی یہ دن کارگل کے شہیدوں اور باقی فوجیوں کی بہادری کو سلام کرتے ہوئے کارگل وجے دیوس یا آپریشن وجے کے نام سے بھی مناتے ہیں۔

       

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: