اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Madhya Pradesh: کرکٹ کے کھیل میں گیند لگنے کے سبب فیضان منصوری کا قتل

    مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کے قصبہ مہیشور میں کرکٹ کھیل کی بال لگنے کے معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ فیضان منصوری نام کے سترہ سالہ نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقعہ واردات پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے اور اب تک پولیس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

    مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کے قصبہ مہیشور میں کرکٹ کھیل کی بال لگنے کے معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ فیضان منصوری نام کے سترہ سالہ نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقعہ واردات پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے اور اب تک پولیس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

    مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کے قصبہ مہیشور میں کرکٹ کھیل کی بال لگنے کے معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ فیضان منصوری نام کے سترہ سالہ نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقعہ واردات پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے اور اب تک پولیس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع کھرگون کے قصبہ مہیشور میں کرکٹ کھیل کی بال لگنے کے معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ فیضان منصوری نام کے سترہ سالہ نوجوان کا قتل کردیا گیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موقعہ واردات پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے اور اب تک پولیس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔ قتل معاملے میں شامل پانچویں شخص کی تلاش پولیس کے ذریعہ کی جا رہی ہے۔

    کرکٹ کے کھیل میں فیضان منصوری کا ہوا قتل
    کرکٹ کھیل میں مار پیٹ کا معاملہ اس وقت پیش آیا، جب راستے سے گزر رہے روشن کو ریحان کے ذریعہ مارے گئے شارٹ سے کرکٹ گیند سے چوٹ لگی، جس پر شبھم، روشن، ساجن، روہت اور کانہا نے مل کر پہلے اس کا بیٹ چھین کر اس کی پٹائی کی۔ بیچ بچاؤ میں ریحان کے کئی ساتھی بھی زخمی ہوئے۔ مار پیٹ کے بیچ ریحان کسی طرح بھاگ نکلا، لیکن پانچوں نے فیضان منصوری کو پکڑلیا اور اس پرچاقوؤں سے کئی گہرے وار کئے۔ فیضان منصوری کو پہلے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا، لیکن جب یہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے علاج کرنے سے منع کردیا تو فیضان منصوری کو مہیشورکے سرکاری اسپتال میں منتقل کیا گیا، لیکن سرکاری اسپتال میں علاج شروع ہونے سے پہلے ہی فیضان منصوری کی موت ہوگئی۔

    فیضان منصوری کو پہلے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا، لیکن جب یہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے علاج کرنے سے منع کردیا تو فیضان منصوری کو مہیشورکے سرکاری اسپتال میں منتقل کیا گیا، لیکن سرکاری اسپتال میں علاج شروع ہونے سے پہلے ہی فیضان منصوری کی موت ہوگئی۔
    فیضان منصوری کو پہلے پرائیویٹ اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا، لیکن جب یہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے علاج کرنے سے منع کردیا تو فیضان منصوری کو مہیشورکے سرکاری اسپتال میں منتقل کیا گیا، لیکن سرکاری اسپتال میں علاج شروع ہونے سے پہلے ہی فیضان منصوری کی موت ہوگئی۔


    یہ بھی پڑھیں۔

    اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد کانگریس میں آج ہوسکتا ہے بڑا فیصلہ

    ایس پی کھرگون سدھارتھ چودھری نے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فیضان منصوری قتل کے معاملے میں پانچ ملزمان میں سے چار کو پولیس کے ذریعہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پانچویں ملزم کی تلاش جاری ہے۔ یہ معاملہ کرکٹ کھیل کے دوران شارٹ مارنے اور وہاں سے گزرنے والے روشن کو لگنے کے سبب پیش آیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق، روشن نے جس چاقو کا استعمال کیا ہے اسے اس نے آن لائن پلیٹ فارم سے ڈھائی سو روپیہ میں خریدا تھا۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کرکے گھر والوں کے سپرد کردیا گیا ہے اور پولیس کی موجودگی میں فیضان کو سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ احتیاط  کے طور پر مہیشور میں اضافی فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ حالات پوری طرح پُرامن ہیں۔ وہیں فیضان منصوری کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور فیضان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: