ہوم » نیوز » وطن نامہ

این آرسی کاخوف: آسام میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے فرضی دستاویزات کا کیا استعمال

یادرہے کہ آسام این آر سی کی حتمی فہرست31 اگست کوشائع ہونے والی ہے۔سپریم کورٹ کی نگرانی میں آسام این آر سی کا عمل مکمل کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق ، یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مشتبہ ہندو درخواست گذاروں کی انب سے بڑے پیمانے پردھوکہ دہی انجام دی گئی ہے۔

  • Share this:
این آرسی کاخوف: آسام میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے فرضی دستاویزات کا کیا استعمال
این آر سی کا خوف: آسام میں مسلمانوں سے زیادہ ہندووں نے فرضی دستاویزات کا کیا استعمال

آسام این آرسی یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ کو لیکر ایک بڑا انکشاف ہواہے۔ ذرائع کے مطابق این آرسی میں ناموں کے اندراج کے دوران مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے فرضی دستاویزات کا استعمال کیاہے۔


یادرہے کہ آسام این آر سی کی حتمی فہرست31 اگست کوشائع ہونے والی ہے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں آسام این آر سی کا عمل مکمل کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق ، یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مشتبہ ہندو درخواست گذاروں کی انب سے بڑے پیمانے پردھوکہ دہی انجام دی گئی ہے۔حکام نے بتایا کہ ہندو درخواست گذاروں کی جانب سے داخل کیے گئے50 فیصد سے زیادہ دستاویزات فرضی ہے۔حکام کا کہناہے کہ یہ بہت حیران کن ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف مشتبہ تارکین وطن مسلمان ہی این آر سی میں ناموں کی شمولیت کے لئے فرضی دستاویزات اوردھوکہ دہی کے طریقہ اپناتے ہیں۔تاہم آسام میں مشتبہ ہندوؤں کی شناخت کی جاچکی ہے اور اس کا اندازہ لگایا گیاہے کہ آسام میں ایسے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔


حال ہی میں آسام کی بی جے پی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلے ہندوؤں کے نام این آر سی کے مسودے سے خارج کردیئے گئے ہیں۔ این آرسی میں سے نکال دیئے گئے ناموں کی فہرست ریاستی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔تاہم سپریم کورٹ نے رازداری کو برقراررکھتے ہوئے اسے بند لفافے میں عدالت میں جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔


آسام کی ریاستی حکومت کا دعویٰ

آسام حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ ہندوستانی بنگلہ دیش سرحد سے متصل اضلاع کی نسبت مقامی اکثریتی اضلاع میں زیادہ سے زیادہ افراد کے ناموں کو این آر سی سے خارج کردیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ، این آر سی میں کئی خامیاں ہیں۔ جبکہ سرحدی اضلاع میں زیادہ سے زیادہ مسلم تارکین وطن کے رہنے کا امکان ہے ۔

آسام میں 1985 میں ہوا تھا معاہدہ

یہ بات قابل ذکرہے کہ بنگلہ دیش سے 24 مارچ 1971 سے قبل ہندوستان آنے والے تارکین وطن قانونی طور پرہندوستانی شہریت کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ آسام میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد دہائیوں سے بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پرملک میں داخل ہورہی ہے۔ جبکہ 1985 میں کیے گئے آسام معاہدے کے مطابق غیرقانونی تارکین وطن کی شناخت کرکے انہیں ملک بدرکرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
First published: Aug 26, 2019 02:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading