ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میرٹھ: انصاف کے لئے بھٹکتے رہے اہل خانہ، قتل کے معاملے کو پولیس نے بنایا خودکشی کا معاملہ

انصاف کے لئے ایک خاندان کو تھانے سے لےکر ایس ایس پی آفس تک کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، لیکن پولیس اغوا اور قتل کا معاملہ درج کرنے کے بجائے خودکشی کا معاملہ بنا کر کیس کو بند کرنے پر آمادہ ہے۔

  • Share this:
میرٹھ: انصاف کے لئے بھٹکتے رہے اہل خانہ، قتل کے معاملے کو پولیس نے بنایا خودکشی کا معاملہ
میرٹھ: انصاف کے لئے بھٹکتے رہے اہل خانہ، قتل کے معاملے کو پولیس نے بنایا خودکشی کا معاملہ

میرٹھ: انصاف کے لئے ایک خاندان کو تھانے سے لے کر ایس ایس پی آفس تک کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، لیکن پولیس اغوا اور قتل کا معاملہ درج کرنے کے بجائے خودکشی کا معاملہ بنا کر کیس کو بند کرنے پر آمادہ ہے۔ معاملہ میرٹھ کے تھانہ برہم پوری علاقے کا، جہاں کے رہنے والے انوج گپتا  21 جنوری کی رات سے لاپتہ ہو گئے تھے اور پھر 25 جنوری کو انوج کی لاش آبو نالے سے برآمد ہوئی۔ انوج کے اہل خانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج سے ظاہر ہو رہے ثبوت کی بنیاد پر انوج کو قتل کئے جانے كا یقین ظاہر کیا ہے، لیکن پولیس اسے خودکشی کا معاملہ بتا رہی ہے۔


انوج کے گھر والوں کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج کے باوجود پولیس اغوا کرکے قتل کرنے کا معاملہ درج نہ کرکے اسے خودکشی ثابت کرنے پر آمادہ ہے۔ انوج کے اہل خانہ اس معاملے کو لے کر تمام پولیس افسران کے سامنے اپنی درخواست اور مطالبہ پیش کر چکے ہیں، لیکن قتل کے معاملے کی جانچ کو لے کر پولیس افسران اب تک کچھ کہنے اور کرنے سے قاصر ہیں۔

انوج کے گھر والوں کے مطابق انوج ایک پرائیویٹ بینک میں ملازمت کرتا تھا۔ 21 جنوری کی رات وہ بینک سے نکل کر گھر کے لئے روانہ ہوا، لیکن گھر نہیں پہنچا، اگلے روز اسے تلاش کرنے کے بعد گھر والوں نے پولیس میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ 25 جنوری کو انوج کی لاش آبو نالے سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ لاش بورے میں ملی۔ ایسے میں گھر والوں کا کہنا ہے کہ جب لاش بورے میں برآمد ہوئی تو یہ خودکشی کا معاملہ نہیں بلکہ قتل کا معاملہ ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 02, 2021 11:58 PM IST