உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ابراہیم اشک کا کورونا وائرس کے سبب انتقال 

    معروف شاعر، ادیب، صحافی اور فلمی نغمہ نگار ابراہیم اشک کا کورونا وائرس کے سبب ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کے اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 71 سال تھی۔ ابراہیم اشک نے شاعری، افسانہ، صحافت اور تنقید میں قلم آزمائی کی۔

    معروف شاعر، ادیب، صحافی اور فلمی نغمہ نگار ابراہیم اشک کا کورونا وائرس کے سبب ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کے اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 71 سال تھی۔ ابراہیم اشک نے شاعری، افسانہ، صحافت اور تنقید میں قلم آزمائی کی۔

    معروف شاعر، ادیب، صحافی اور فلمی نغمہ نگار ابراہیم اشک کا کورونا وائرس کے سبب ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کے اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 71 سال تھی۔ ابراہیم اشک نے شاعری، افسانہ، صحافت اور تنقید میں قلم آزمائی کی۔

    • Share this:
    ممبئی: معروف شاعر، ادیب، صحافی اور فلمی نغمہ نگار ابراہیم اشک کا کورونا وائرس کے سبب ممبئی کے مضافاتی علاقے میرا روڈ کے اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 71 سال تھی۔ ابراہیم اشک نے شاعری، افسانہ، صحافت اور تنقید میں قلم آزمائی کی۔ الہام، آگہی، الاؤ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ کربلا کےنام سے مرثیے کا مجموعہ بھی منظر عام پر آچکا ہے۔

    اس کے علاوہ ابراہیم اشک نے غزل، نظم، مرثیہ، رباعی، سلام، دوہا، قصیدہ، گیت اور ماہیا اور فلمی نغمہ نگاری میں بھی کامیاب پیش رفت کیں۔ ابراہیم اشک کافی لمبے عرصے سے فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ انہوں نے کہو نا پیار ہے، کوئی مل گیا، جانشین، اعتبار سمیت کئی فلموں میں نغمے تحریر کئے ہیں۔

    ابراہیم اشک 20 جولائی 1951 کو بڑنگر ضلع اجین مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے۔ اندور یونیورسٹی سے ہندی ادب میں ایم اے کیا۔ 12 سال تک ہندی روزنامہ اندور سماچارسے وابستہ رہے۔ شمع اور سریتا میگزین میں بھی خدمت انجام دی۔ ادبی اور صحافتی خدمات کے پیشِ نظر انہیں یوپی اردو اکادمی ایوارڈ، آل انڈیا بینزر ایوارڈ، مہاراشٹر ہندی پترکار سنگھ ایوارڈ، اجین جبلن کلب کا ساہتیہ سمان ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

    ابراہیم اشک کے انتقال سے ادبی دنیا سوگوار ہے اور فلمی نغمہ نگاروں کی تنظیم نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ابراہیم اشک ان کے کامیاب فلمی نغموں کی بدولت یاد رکھیں جائیں گے۔ ابراہیم اشک کے فن اور ان کی شخصیت کے متعلق کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ ادبی ماہنامہ تکمیل نے ابراہیم اشک نمبر بھی شائع کرچکا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: