ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

برصغیر کے نامور محقق ، نقاد اور ناول نگار پرو فیسر شمس الرحمان فاروقی کے انتقال سے اردو دنیا میں غم کی لہر

اردو دنیا میں شمس الرحمان فاروقی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ادبی حلقوں میں فاروقی کا مطلب ہی شمس الرحمان فاروقی ہوتا ہے ۔ شمس الرحمان فاروقی کے گذر جانے سے اردو دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے ، اس کی بھرپائی اب بہت مشکل ہے ۔

  • Share this:
برصغیر کے نامور محقق ، نقاد اور ناول نگار پرو فیسر شمس الرحمان فاروقی کے انتقال سے اردو دنیا میں غم کی لہر
برصغیر کے نامور محقق ، نقاد اور ناول نگار پرو فیسر شمس الرحمان فاروقی کے انتقال سے اردو دنیا میں غم کی لہر

برصغیر کے نامور محقق ، نقاد اور ناول نگار پرو فیسر شمس الرحمان فاروقی اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔  طویل علالت کے بعد شمس الرحمان فاروقی کا الہ آباد میں انتقال ہو گیا ۔ شمس الرحمان فاوقی کافی دنوں سے دہلی کے اسکارٹ اسپتال میں زیر علاج تھے ۔ اسپتال میں کوئی افاقہ نہ ہونے پر ان کو الہ آباد میں ان کی رہائش گاہ لایا گیا ، جہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔


شمس الرحمان فاروقی کی پیدائش 30 ستمبر 1935 کو یوپی کے مردم خیز ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی تھی ۔ شمس الرحمان  فاروقی نے اعلیٰ تعلیم کے لئے الہ آباد یونیورسٹی کا رخ کیا ۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد شمس الرحمان سول سروسیز کے امتحانات میں شامل ہوئے ۔ انہوں نے یوپی ایس سی میں کامیابی حاصل کی اور انڈین پوسٹل سر وس کا انتخاب کیا ۔ شمس الرحمان فاروقی یو پی کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدہ سے سبک دوش ہوئے ۔


انہوں نے تمام تر مصروفیات کے با وجود تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور سینکڑوں مقالے اور مضامین لکھے ۔
انہوں نے تمام تر مصروفیات کے با وجود تین درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور سینکڑوں مقالے اور مضامین لکھے ۔


شمس الرحمان فاروقی ترقی اردو بیورو جو بعد میں قومی اردو کونسل کے نام سے معروف ہوا ، اس کے ڈائرکٹر بھی رہے ۔ لیکن شمس الرحمان فاروقی کو شہرت ان کی اردو خدمات کی وجہ سے ملی ۔ فاروقی نے ملازمت میں رہتے ہوئے بھی اردو زبان ادب  کی بے مثال خدمات انجام دیں۔  انہوں نے تمام تر مصروفیات کے با وجود تین درجن سے زائد  کتابیں تصنیف کیں اور سینکڑوں مقالے اور مضامین لکھے ۔

میر تقی میر پر ان کی شہرہ آفاق کتاب شعر شور انگیز چار جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تفہیم غالب ، تعبیر کی شرح ، انداز گفتگو کیا ہے ، اردو کا ابتدائی زمانہ ، درس بلاغت ، اردو غزل ، اشارات و نفی ، تنقیدی افکار ، خورشید کا سامان سفر، کئی چاند تھے سر آسماں ،  لغات روزہ مرہ اور تضمین اللغات شمس الرحمان فاروقی کی مشہور ترین تخلیقات میں شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ سوار اور ان کا ضخیم ناول کئی چاند تھے سر آسمان کا ترجمہ دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ہو چکا ہے ۔

شمس الرحمان فاروقی کو ان کی زندگی میں جو شہرت اورمقبولیت  ملی وہ بہت کم اردو ادیبوں کو نصیب ہوئی ہے ۔ حکومت ہند کی جانب سے ان کو پدم شری کا عزاز ملا ۔ اس کے علاوہ علی  گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ان کی گراں قدر خدمات کے لئے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ۔ شمس الرحمان فاروقی کو ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز سرسوتی سمان ، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ، مختلف اردواکیڈمیوں کی طرف سے ایوارڈس نواز گیا ۔

اردو دنیا میں شمس الرحمان فاروقی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ادبی حلقوں میں فاروقی کا مطلب ہی شمس الرحمان فاروقی ہوتا ہے ۔ شمس الرحمان فاروقی  کے گذر جانے سے اردو دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے ، اس کی بھرپائی اب بہت مشکل ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 25, 2020 04:06 PM IST