ہوم » نیوز » وطن نامہ

زرعی اصلاحاتی قوانین اور ہندوستان کی اصل ریفارمس ٹیم کی خاموشی

اگلے سال ہندوستان کا معاشی اصلاحات پروگرام تین دہائیوں کا ہونے کے بعد مینس اسٹیسٹ میں داخل ہوگا ۔ لہذا یہ ستم ظریفی ہے کہ اصلاحات کے لئے حلقہ اب بھی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • Share this:
زرعی اصلاحاتی قوانین اور ہندوستان کی اصل ریفارمس ٹیم کی خاموشی
زرعی اصلاحاتی قوانین اور ہندوستان کی اصل ریفارمس ٹیم کی خاموشی

گورو چودھری


ہندوستان میں اصلاحات کے عمل کا کبھی کبھی گھڑی کے گھنٹے سے موازنہ کیا جاتا ہے ، جس کو مستقل بنیادوں پر شاذ و نادر ہی دیکھا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مبصرین کیلئے یہ رفتار ، یا اس میں سست روی ، مسلسل مایوسی کا ایک سبب بنی ہے۔ اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ کے ہر ٹکڑے کو اپنی اپنی ڈائنمنک مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جو محکموں ، وزارتوں ، سماجی اور سیاسی اسٹیک ہولڈرس کے ذریعے گزرتے ہیں ۔


اگلے سال ہندوستان کا معاشی اصلاحات پروگرام تین دہائیوں کا ہونے کے بعد مینس اسٹیسٹ میں داخل ہوگا ۔ لہذا یہ ستم ظریفی ہے کہ اصلاحات کے لئے حلقہ اب بھی تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ۔


پچھلے کچھ مہینوں کے دوران 'اصلاح پسندوں' کا بھڑک اٹھنا ایک اہم معاملہ ہے۔ یہ خاص طور پر زراعتی معیشت سے متعلق لوگوں کے لئے سچ ہے۔

ہندوستان کی زراعت کی نشاندہی کرنے والی مشکلات کسانوں کے حق میں "تجارت کی شرائط" کو تبدیل کرنے کے راستے میں کھڑی ہیں ۔

ہندوستان کے کسان ، جن میں سے بڑی اکثریت چھوٹے یا دو ایکڑ سے کم اراضی کی مالک ہے ، کو ایک عجیب رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ اپنی پیداوار کو بیچنے سے جو قیمت حاصل کرتے ہیں ، وہ مجموعی خاندای سطح پر اس قیمت سے کم ہے جو وہ اس سامان کو خریدے اور خدمات کو حاصل کرنے کیلئے ادا کرتے ہیں جس کا وہ استعمال کرتے ہیں ۔

مثال کے طور پر ایک ٹماٹر کسان کی ایک سیزن کے دوران اپنی پیداوار بیچنے سے ہونے والی کمائی ، سبھی امکانات میں، اس سے کم ہوگی جو سامان جیسے کپڑے وغیرہ خریدنے کیلئے یا پھر صحت اور ایجوکیشن جیسے خدمات حاصل کرنے کیلئے وہ ادا کرتے ہیں ۔ اس طرح کاروبار کی شرائط کسانوں کے خلاف جھکی ہوئی ہیں ۔

تو یہ کیسے ایک عدم توازن ہے ؟ ایسا کرنے کا ایک سب سے اچھا طریقہ کسانوں کو اس مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہے جو اس کی پیداوار کیلئے سب سے اچھی قیمت دلائے گا ۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین اس کو یقینی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان اصلاحات کے ٹکڑوں کو کیوں دو طرفہ تعاون حاصل نہیں ہے؟

یہ سوال خاص طور پر اصل "ریفارمس ٹیم" پر لاگو ہے جس نے ہندوستان کو 1991 میں پیمٹنس ڈیفالٹ کے بیلنس کے دہانے سے واپس لے کر آنے والی پالیسیوں کا آغاز کرکے ہندوستان کی تاریخ کا رخ تبدیل کردیا تھا۔

24 جولائی 1991 کو وزیر خزانہ منموہن سنگھ کے 1991 کی بجٹ تقریر میں وکٹر ہیوگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ "روئے زمین پر کوئی بھی طاقت اس خیال کو روک نہیں سکتی جس کا وقت آگیا ہے" ۔ ہندوستان کی معیشت کو کھولنے اور لائسنس کوٹہ راج سسٹم کو ختم کرنے کے لئے ایک معاملہ بنانے کی خاطر ہندوستان کے امکانات کو چوٹ پہنچاتے ہوئے ناقابلیت کی تہوں میں پیوست ہوگیا تھا ۔

جمہوریت میں اصلاحات اور پالیسی سازی – خواہ معاشی پالیسی کی ہو یا اداروں کی - بنیادی طور پر ایک سیاسی عمل ہے۔ پارلیمنٹ اور اس سے باہر سیاسی بحثیں اس جمہوری رجحان کا مظہر ہیں ۔ اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ وسیع تر مشاورت ممکنہ علاقے کو وسعت دینے میں مدد کرتے ہیں ۔ اس حقیقت کو کہنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے کہ تدریجیت ایک بگ بینگ نقطہ نظر سے زیادہ موزوں ہے۔

تاہم ان سبھی چیزوں سے ایک اہم سبق بھی ملتا ہے کہ مطلوبہ فوائد حاصل کرنے کے لئے دو طرفہ اور باہمی تعاون ضروری ہے۔

ہندوستان میں پارٹیوں کے درمیان دو طرفہ سیاسی سوچ کے فقدان کے نتیجہ میں متعدد اہم پالیسی اصلاحات بظاہر نہ ختم ہونے والی بحثوں میں پھنس کر رہ گئی ہیں ۔

اقتصادی اصلاحات اور پالیسی سازی ، کرکٹ کی طرح ، وقت کا ایک شاندار کھیل ہے۔ فوری فیصلہ سازی اور تیز رفتار عمل درآمد ہندوستانی معیشت کو تبدیل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے ، جو حال ہی میں عالمی ترقی کے لئے ایک انجن تھا۔

حتمی تجزیہ میں پالیسی اصلاحات اور سیاست الگ الگ آبجیکٹیوس کیلئے ہونے چاہئیں ۔ یہ صرف دو طرفہ ، غیر جانبدارانہ اور باہمی تعاون کے ساتھ ہی دیکھے جائیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 13, 2020 01:05 PM IST