உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Winter Session 2021: تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے بل کو کابینہ نے دی منظوری، پارلیمنٹ میں ہوگا پیش

    تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے بل کو کابینہ نے دی منظوری، پارلیمنٹ میں ہوگا پیش

    تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے بل کو کابینہ نے دی منظوری، پارلیمنٹ میں ہوگا پیش

    Winter Session 2021: وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے گزشتہ کچھ ہی روز پہلے قوم کے نام خطاب میں تین زرعی قوانین (Farm Laws Repeal) کو واپس لینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ اسی کے پیش نظر زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے متعلق بل 2021 کو منظوری دی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی کابینہ (Modi Cabinet) نے تین زرعی قوانین (Farm Laws) کو منسوخ کرنے سے متعلق بل کو منظوری دے دی۔ ذرائع نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔ ان تین زرعی قوانین (Farm Laws Repeal) کی مخالفت میں گزشتہ تقریباً ایک سال سے دہلی کی سرحد پر تقریباً 40 کسان تنظیمیں احتجاجی مظاہرہ (Farmers Protest) کر رہی ہیں۔

      وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے گزشتہ کچھ ہی روز پہلے قوم کے نام خطاب میں تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ اسی کے پیش نظر زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے متعلق بل 2021 کو منظوری دی گئی ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے بلیٹن کے مطابق، 29 نومبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس (Winter Session 2021) کے دوران تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے متعلق بل پیش کئے جانے کے لئے لسٹیڈ ہے۔

      واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر مہینے میں مرکزی حکومت اپوزیشن کی زبردست مخالفت کے درمیان کسانوں کی پیداوار تجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت) ایکٹ، ایگریکلچر (امپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن) پرائس ایشورنس اینڈ ایگریکلچرل سروسز ایگریمنٹ ایکٹ اور ضروری اشیاء ترمیمی ایکٹ، 2020 لایا گیا۔

      ان کی مخالفت میں تقریباً ایک سال سے احتجاجی مظاہرہ کر رہی کسان تنظیموں کا اہم مطالبہ ان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنا پڑا۔ حکومت نے جہاں ان قوانین کو کسانوں کی آمدنی بڑھنے والا اہم قدم بتایا تھا وہیں کسانوں نے کہا کہ یہ قانون انہیں کارپوریٹ گھرانوں پر منحصر کردیں گے۔

      وہیں کسان ایسوسی ایشن کی تنظیمیں سنیکت کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے فصلوں کے لئے کم از کم سپورٹ پرائز (ایم ایس پی) کی قانونی گارنٹی سمیت حکومت کے سامنے اٹھائے گئے اپنے 6 مطا لبات کو دوہراتے ہوئے پیر کے روز کہا تھا کہ جب تک یہ مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے تب تک وہ آندولن جاری رکھیں گے۔ ایس کے ایم نے یہ بھی کہا تھا کہ دہلی کی سرحدوں پر اس کا آندولن تب تک ختم نہیں کیا جائے گا، جب تک تینوں متعلقہ زرعی قوانین کو پارلیمنٹ میں رسمی طور پر منسوخ نہیں کردیا جاتا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: