ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کسان لیڈروں کا دعویٰ- یوجم جمہوریہ کے دن ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس نے دی اجازت

پی ٹی آئی کے مطابق، کسان لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ دہلی پولیس (Delhi Police) نے انہیں ٹریکٹر ریلی کی اجازت دے دی ہے۔

  • Share this:
کسان لیڈروں کا دعویٰ- یوجم جمہوریہ کے دن ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس نے دی اجازت
کسان لیڈروں کا دعویٰ- یوجم جمہوریہ کے دن ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس نے دی اجازت

نئی دہلی: کسان لیڈروں نے ہفتہ دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس نے انہیں یوم جمہوریہ (Republic Day) کے دن ٹریکٹر ریلی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کسان لیڈر ابھمنیو کوہر (Abhimanyu Kohar) نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کسانوں نے پولیس سے ملاقات کی تھی اور انہیں ٹریکٹر ریلی کی اجازت مل گئی ہے۔ CNN-News18 کے ذرائع کے مطابق ٹریکٹر ریلی کا روٹ اتوار کو چے کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے الگ الگ حصوں سے کسان اپنے ٹریکٹروں اور ٹرالیوں میں لد کر دہلی بارڈر پہنچ چکے ہیں اور ان کی تیاری 26 جنوری کو مجوزہ ٹریکٹر ریلی میں حصہ لینے کی ہے۔ کسان اپنے ساتھ راشن، دری اور دیگر ضروری اشیا بھی لے کر آئے ہیں۔ ٹریکٹروں کا یہ قافلہ زرعی قانون کو واپس لینے کے لئے مرکزی حکومت پر دباو بنانے کے لئے نکالا ہے۔


کسانوں کے ٹریکٹروں پر ان کے یونین کے جھنڈے ہیں، تو کچھ نے اپنے ٹریکٹروعں پر ترنگا لگا رکھا ہے۔ ’کسان ایکتا زندہ آباد’، ’نو فارمر، نو فوڈ’ اور ’کالے قانون منسوخ کرو’ کے نعرے کے ساتھ کسان مسلسل ٹریکٹر ریلی نکالنے پر زور دے رہے ہیں۔ مظاہرین کسان تنظیمیں مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ کے دن اپنی مجوزہ ٹریکٹر ریلی نکالیں گے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ دہلی آوٹر رنگ روڈ پر وہ ٹریکٹر پریڈ نکالیں گے۔


بھارتیہ کسان یونین (ایکتا - اگراہاں) کے جنرل سکریٹری سکھدیو سنگھ کوکری کلاں نے ہفتہ کو کہا کہ ٹریکٹر پریڈ پُرامن ماحول میں نکلے گا۔ 30 ہزار سے زیادہ ٹریکٹر اور ٹرالی پنجاب میں سنگرور کے کھنوری اور ہریانہ کے سرسا ضلع کے ڈبوالی سے دہلی کے لئے چل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ہفتہ کی رات کو یہ قافلہ ٹکری بارڈر پہنچ جائے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب کے فگواڑہ سے 1000 ٹریکٹروں کا قافلہ اور ہوشیار پور سے 150 ٹریکٹروں کے پریڈ کا حصہ بننے کے لئے دہلی کے لئے چلا ہے۔


گزشتہ دو ماہ سے پنجاب اور ہریانہ کے ہزاروں کسان دہلی بارڈر پر مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت نئے زرعی قوانین کو واپس لے اور کسانوں کو ان کی پیدار کے عوض کم از کم سپورٹ قیمت (Minimum Support Price) کی گارنٹی دے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نیا زرعی قانون کم از کم سپورٹ قیمت کے نظام کو کمزور کرے گا، لیکن مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ایم ایس پی کا سسٹم بنا رہے گا اور نئے قوانین سے کسانوں کو اپنی فصل بیچنے کے لئے زیادہ متبادل ملیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 23, 2021 10:00 PM IST