ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisaan Andolan: حکومت کے ساتھ میٹنگ کے بعد بولے کسان- جاری رہے گا آندولن، 3 دسمبر کو پھر ہوگی بات چیت

نئے زرعی قانون (New Agriculture Law 2020) کے خلاف چار ریاستوں (پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش) کے کسان گزشتہ پانچ دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ پر مرکزی حکومت سرگرم ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر (Narendra Singh Tomar) نے کسانوں کو بات چیت کے لئے بلایا ہے۔

  • Share this:
Kisaan Andolan: حکومت کے ساتھ میٹنگ کے بعد بولے کسان- جاری رہے گا آندولن، 3 دسمبر کو پھر ہوگی بات چیت
Kisaan Andolan: حکومت کے ساتھ میٹنگ کے بعد بولے کسان- جاری رہے گی تحریک، 3 دسمبر کو پھر ہوگی بات چیت

نئی دہلی: نئے زرعی قانون (New Agriculture Law 2020) کے خلاف چار ریاستوں (پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور اترپردیش) کے کسان گزشتہ پانچ دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔  کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ پر مرکزی حکومت نے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ہے اور آج اس ضمن میں وگیان بھون میں میٹنگ ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر (Narendra Singh Tomar) نے کسانوں کو بات چیت کے لئے بلایا تھا۔ تاہم کسانوں نے میٹنگ کے بعد واضح طور پر کہا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔ اس میٹنگ کے بعد حکومت اور کسانوں نے کہا ہے کہ میٹنگ مثبت رہی اور تین دسمبر کو پھر سے میٹنگ ہوگی۔

میٹنگ کے بعد وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ میٹنگ اچھی اور ہم نے طے کیا ہے کہ تین دسمبر کو پھر سے بات چیت ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسان ایک چھوٹا گروپ بنائیں، لیکن کسان لیڈروں کا ماننا ہے کہ سبھی کے ساتھ بات چیت ہونی چاہئے۔ ہمیں اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ ہم نے کسانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور بات چیت کے لئے آنے کو کہا ہے۔ حالانکہ فیصلہ تنظیموں اور کسانوں پر منحصر ہے۔


کسانوں کے وفد کے نمائندہ چندا سنگھ نے میٹنگ کے بعد کہا کہ زرعی قانون کے خلاف ہمارا آندولن جاری رہے گا اور ہم حکومت سے کچھ نہ کچھ واپس ضرور لے کر جائیں گے، چاہے وہ گولی ہو یا پھر پُرامن ماحول۔ ہم پھر سے ان کے پاس بات چیت کے لئے آئیں گے۔ حکومت اور کسان لیڈروں کی میٹنگ کے بعد کسان لیڈر رولود سنگھ منسا نے کہا کہ ہم بڑی کمیٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن حکومت چھوٹی کمیٹی بنانا چاہتی ہے، اس لئے آج کی میٹنگ میں کچھ فیصلہ نہیں ہوا، اب دوبارہ تین دسمبر کو میٹنگ ہوگی۔ آل انڈیا کسان فیڈریشن کے صدر پریم سنگھ بھنگو نے وزیر زراعت کے ساتھ میٹنگ کے بعد کہا کہ آج کی میٹنگ اچھی رہی اور کچھ ترقی بھی ہوئی ہے۔ حکومت کے ساتھ تین دسمبر کو ہماری اگلی میٹنگ میں ہم ان پر اس بات کے لئے دباو بنائیں گے کہ زرعی قانون میں کسانوں کی بھلائی کے لئے کوئی بھی قانون نہیں ہے۔ پریم سنگھ بھنگو نے کہا کہ ہمارا آندولن جاری رہے گا۔


 

وگیان بھون میں کسان لیڈروں سے دو مرکزی وزرا نریندر سنگھ تومر اور پیوش گوئل نے بات چیت کی۔
وگیان بھون میں کسان لیڈروں سے دو مرکزی وزرا نریندر سنگھ تومر اور پیوش گوئل نے بات چیت کی۔


واضح رہے کہ وگیان بھون میں حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت ہوئی۔ حکومت کی طرف سے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اس بات چیت کی قیادت کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ زرعی قانون نریندر سنگھ تومر اور پیوش گوئل موجود تھے۔ اس پر پالیسی بنانے کے لئے بی جے پی صدر جے پی نڈا کے گھر ایک اہم میٹنگ ہورہی ہے۔ کسانوں کو دہلی میں براڑی میں موجود نرنکاری گراونڈ میں احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن وہ گزشتہ پانچ دنوں سے سندھو اور ٹکری بارڈر پر ہی ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔ اس درمیان احتیاط کے طور پر دہلی پولیس نے سندھو بارڈرکو بند کردیا ہے۔ دہلی کے سبھی داخل ہونے والے پراستوں پر سخت نگرانی کی جارہی ہے۔

مرکزی حکومت نے کسانوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔ کسانوں سے بات چیت کرنے کے لئے مرکزی وزیر  زراعت نریندر سنگھ تومر اور پیوش گوئل کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ دونوں سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر کسانوں سے وگیان بھون میں بات چیت کر رہے ہیں۔ کسانوں نے مرکزی حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جب تک ہماری بات نہیں سنتے تب تک آندولن چلے گا۔ حکومت نہیں مانی تو اور سخت قدم اٹھائیں گے۔ حکومت کو ہماری بات ماننی پڑے گی۔ یہ تاریخی لڑائی ہے، ہم لمبی لڑائی کے لئے آئے ہیں۔ زرعی قوانین کو نہیں بدلا تو حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے۔ وہیں دوسری طرف  غازی پور - غازی آباد سرحد پر بی کے یو کے صدر نریش ٹکیٹ نے کہا کہ حکومت نے پنجاب کے نمائندوں کو تین بجے بلایا ہے۔ اس کے بعد حکومت اترپردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ اور دہلی کے نمائندوں شام 7 بجے میٹنگ کے لئے بلایا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 01, 2020 06:09 PM IST