ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خفیہ ایجنسیوں کا انکشاف- کسان لیڈرکا قتل کرسکتی ہےخالصتانی دہشت گرد تنظیم کے سی ایف

دہلی کی سرحدوں پر زرعی قوانین (Farm Laws) کی مخالفت کر رہے کسان لیڈر کو نشانہ بنانے کے لئے خالصتانی کمانڈو فورس (Khalistan Commando Force) کے ذریعہ ایک عالمی سازش کی گئی ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسیاں (R&AW) آر اینڈ اے ڈبلیو اور انٹلی جنس بیورو دہشت گرد تنظیم کے سی ایف کی ایسی کوششوں پر نظر رکھ رہی ہیں۔

  • Share this:
خفیہ ایجنسیوں کا انکشاف- کسان لیڈرکا قتل کرسکتی ہےخالصتانی دہشت گرد تنظیم کے سی ایف
خفیہ ایجنسیوں کا انکشاف- کسان لیڈرکا قتل کرسکتی ہےخالصتانی دہشت گرد تنظیم کے سی ایف

نئی دہلی: دہلی کی سرحدوں پر زرعی قوانین (Farm Laws) کی مخالفت کر رہے کسان لیڈر کو نشانہ بنانے کے لئے خالصتانی کمانڈو فورس (Khalistan Commando Force) کے ذریعہ ایک عالمی سازش کی گئی ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسیاں (R&AW) آر اینڈ اے ڈبلیو اور انٹلی جنس بیورو دہشت گرد تنظیم کے سی ایف کی ایسی کوششوں پر نظر رکھ رہی ہیں۔ کچھ دنوں پہلے اس سے متعلق خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ اِن پُٹ کی بنیاد پر خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ تیار کی گئی رپورٹ کی بنیاد، سازش کرنے والے بیلجیم اور یونائیٹیڈ کنگڈم کے ہیں، جنہوں نے منصوبہ بند طریقے سے دہلی کی سرحد پر احتجاج کر رہے ایک کسان لیڈر کو ختم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔


کے سی ایف کا منصوبہ اس لیڈر کو نشانہ بنانے کا ہے، جس پر گزشتہ دنوں پنجاب سے کے سی ایف کیڈروں کو ختم کرنے میں شامل ہونے کا الزام لگ رہا تھا۔ کے سی ایف ایک دہشت گرد تنظیم ہے، جس پر ہندوستان میں مختلف قتل میں شامل ہونے کے الزام ہیں۔ تنظیم میں کناڈا، یونائیٹیڈ کنگڈم، بلیجیم اور پاکستان جیسے مختلف ممالک کے رکن ہیں۔ ایک سینئر سرکاری افسر نے کہا کہ ایک کسان لیڈر کو ختم کرنےکا منصوبہ تھا، جس کے بارے میں قابل اعتماد ذرائع سے ان پُٹ حاصل ہوئے ہیں۔ انہیں پتہ چلا ہے کہ کے سی ایف کے بیلجیم اور برطانیہ میں رہنے والے تین دہشت گردوں نے دہلی کی سرحد پر موجودہ وقت میں مخالفت کر رہے کسان لیڈر کا قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔


کے سی ایف کے کیڈر میں شامل تھا کسان لیڈر


اِن پُٹ کے مطابق، کسان لیڈر پنجاب میں گزشتہ دنوں کے سی ایف کیڈروں کو ختم کرنے میں مبینہ طور پر شامل تھا۔ ایجنسیوں کو ملی جانکاری میں کہا گیا ہے کہ کے سی ایف کا ماننا ہے، ’اس وقت لیڈر کے قتل سے ہندوستان میں تشدد بڑھ سکتا ہے اور قتل کا الزام سرکاری ایجنسیوں یا کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں پر ہوگا‘۔

خالصتانی علیحدگی پسند کسانوں کی مخالفت کے ذریعہ سے اپنی زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان سے چلائے جانے والے 400 سے زیادہ ٹوئٹر ہینڈل ہندوستانی ایجنسیوں کے ذریعہ بند کئے گئے تھے، جو آگ میں ایندھن جوڑنے کے لئے سرگرم تھے۔ 26 جنوری کو جب کسان لیڈر قلعہ کے آس پاس اکٹھا ہوئے، تو خالصتانی علیحدگی پسند گروپوں کے اراکین نے واشنگٹن ڈی سی میں ہندوستانی سفارتخانہ کے باہر احتجاج کیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 17, 2021 05:55 PM IST