ہوم » نیوز » وطن نامہ

کسانوں کے چکا جام کے پیش نظر سیکورٹی سخت ، پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستے بھی تعینات

Chakka Jam: ملک بھر میں قومی اور ریاستی شاہراہوں کو دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک جام کیا جائے گا ۔ ایمرجنسی اور ضروری خدمات جیسے ایمبولینس ، اسکول بس وغیرہ کو نہیں روکا جائے گا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 06, 2021 08:25 AM IST
  • Share this:
کسانوں کے چکا جام کے پیش نظر سیکورٹی سخت ، پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستے بھی تعینات
زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا چکہ جام آج ، کیا کھلا رہے گا اور کیا بند ، یہاں جانئے سب کچھ

کسان سنیکت مورچہ نے 6 فروری کو دہلی-این سی آر، اترپردیش اور اتراکھنڈ کے علاوہ ملک بھر میں دوپہر 12 بجے سے شام 3 بجے تک چکا جام کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ سنیکت کسان مورچہ کے رہنما ڈاکٹر درشنپال نے گزشتہ روز کنڈلی بارڈر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کسانوں نے ہفتے کے روز چکا جام کی پوری تیاری کرلی ہے۔ اس کے لئے سب سے اہم ہدایت پرامن نظام کے حوالے سے دی گئی ہے۔ نوجوانوں سے خصوصی طور سے لوگوں کے بہکاوے میں نہ آنے اور امن وسکون کی اپیل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف دوپہر 12 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک کا چکا جام رہے گا۔ تین بجے احتجاج میں شریک تمام افراد ایک منٹ کے لئے اپنی گاڑیوں کا ہارن بجاکر حکومت کوبیدارکرنے کا کام کریں گے۔ اسکول بسوں ، ایمبولینسوں اور بیمار لوگوں کو چکا جام میں کوئی تکلیف نہ ہو اس کے لئے بھی خاص طور سے ہدایت دی گئی ہے۔


غازی پور بارڈر سے بھارتیہ کسان ہونین لیڈر راکیش ٹکیت نے دہلی این سی آر، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں چکا جام نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے پیچھے انہوں نے گنا کسانوں اور مقامی صورت حال کا حوالہ دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک وہم پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں مورچہ میں کسی طرح کی پھوٹ تو نہیں ہے۔ اس سلسلے میں کسان سنیکت مورچہ نے واضح کردیا ہے کہ ان کا ارادہ لوگوں کو پریشان کرنے کا نہیں ہے، بلکہ وہ حکومت کو آئینہ دکھانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو لگتا ہے کہ یہ کچھ لوگوں کی تحریک ہے، تو اس وہم کو دور کرنے کے لئے یہ چکا جام رکھا گیا ہے تاکہ حکومت کو پورے ملک کی تصویر کا پتہ چلے۔


پولیس نے چکا جام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ کنڈلی میں تحریک کے مقام کے آس پاس قومی شاہراہ نمبر-44 اور کے جی پی-کے ایم پی ایکسپریس وے پر سکیورٹی فورسز کی 26 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ان میں ہریانہ پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستوں کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔


جمعہ شام کو ہی یہ کمپنیاں اپنے اپنے علاقوں میں تعینات کردی گئی ہیں۔ چکا جام کے دوران امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 06, 2021 08:16 AM IST