ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Kisaan Aandolan: زرعی قوانین کی مخالفت میں کسانوں کا چکا جام، 75 سابق نوکر شاہوں نے حکومت کو لکھا کھلا خط

زرعی قوانین (Farm Laws) کے خلاف احتجاج کر رہے کسان آج ملک گیر پیمانے پر چکا جام (Chakka Jam) کرنے والے ہیں۔ اس دوران پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہوں پر دوپہر 12 بجے سے 3 بجے کے درمیان گاڑیاں نہیں چلنے دی جائیں گی۔ وہیں دوسری جانب 75 سابق نوکر شاہوں نے حکومت کو کھلا خط لکھا ہے۔

  • Share this:
Kisaan Aandolan: زرعی قوانین کی مخالفت میں کسانوں کا چکا جام، 75 سابق نوکر شاہوں نے حکومت کو لکھا کھلا خط
زرعی قوانین کی مخالفت میں کسانوں کا چکا جام، 12 بجے سے 3 بجے تک نہیں چل سکیں گی گاڑیاں

نئی دہلی: زرعی قوانین (Farm Laws) کے خلاف احتجاج کر رہے کسان آج ملک گیر پیمانے پر چکا جام (Chakka Jam) کرنے والے ہیں۔ وہیں دوسری جانب سابق نوکرشاہوں کے ایک گروپ نے جمعہ کو ایک کھلے خط میں کہا کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے تئیں مرکزی حکومت کا رویہ آغاز سے ہی معاندانہ اور محاذ آرائی والا رہا ہے۔ دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر نجیب جنگ، جولیو ریبیریو اور ارونا رائے سمیت 75 سابق نوکر شاہوں کے ذریعہ کئے گئے دستخط پر مبنی خط میں کہا گیا ہے کہ غیر سیاسی کسانوں کو ’ایسے غیر ذمہ دار حریف کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جن کی تشخیص کی جانی چاہئے۔


خط میں کہا گیا ہے، ’ایسے رویے سے کبھی کوئی حل نہیں نکلے گا’۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان حکومت واقعی دوستانہ حل نکالنا چاہتی ہے تو اسے آدھے من سے قدم اٹھانے کے بجائے قوانین کو واپس لے لینا چاہئے اور پھر ممکنہ حل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ خط میں لکھا ہے، ’سی سی جی میں شامل ہم لوگوں نے 11 دسمبر، 2020 کو ایک بیان جاری کرکے کسانوں کے رخ کی حمایت کی۔ اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا، اس نے ہمارے اس نظریہ کو مزید مضبوط بنایا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور مسلسل ہو رہی ہے’۔


سابق نوکرشاہوں کے ایک گروپ نے جمعہ کو ایک کھلے خط میں کہا کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے تئیں مرکزی حکومت کا رویہ آغاز سے ہی معاندانہ اور محاذ آرائی والا رہا ہے۔
سابق نوکرشاہوں کے ایک گروپ نے جمعہ کو ایک کھلے خط میں کہا کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے تئیں مرکزی حکومت کا رویہ آغاز سے ہی معاندانہ اور محاذ آرائی والا رہا ہے۔


وہیں دوسری جانب چکا جام کے دوران آج پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہوں پر دوپہر 12 بجے سے 3 بجے کے درمیان گاڑیاں نہیں چلنے دی جائیں گی۔ کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں چکا جام نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی دہلی میں بھی اس کا اثر دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ پھر بھی دہلی کی پولیس محتاط اور مستعد ہے۔ وہیں، کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ جو لوگ جہاں ہیں، وہیں پر وہ پُرامن طریقے سے چکا جام کریں گے۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہوں کو دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک جام کیا جائے گا۔ ایمرجنسی اور ضروری خدمات جیسے ایمبولینس، اسکول بس وغیرہ کو نہیں روکا جائے گا۔ چکا جام پوری طرح سے پُرامن اور غیر متشدد رہے گا۔ مظاہرین کو احکامات دیئے جاتے ہیں کہ وہ اس پروگرام کے دوران کسی بھی افسر، ملازم یا عام شہریوں کے ساتھ کسی بھی ٹکراو میں شامل نہ ہوں۔

 کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہوں کو دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک جام کیا جائے گا۔

کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں قومی اور ریاستی شاہراہوں کو دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک جام کیا جائے گا۔


حالانکہ دہلی این سی آر میں کوئی چکا جام نہیں ہوگا کیونکہ سبھی مقامات پہلے سے ہی چکا جام موڈ میں ہیں۔ دہلی میں داخل ہونے کے لئے سبھی سڑکیں کھلی رہیں گی، سوائے ان کے، جہاں پہلے سے ہی کسانوں کے ذریعہ احتجاج کیا جارہا ہے۔ تین بجے ایک منٹ کے لئے ہارن بجاکر، کسانوں کے اتحاد کی علامت کے طور پر چکا جام پروگرام ختم ہوگا۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہم عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسانوں کے ساتھ اپنی حمایت اور اتحاد ظاہر کرنے کے لئے اس پروگرام میں شامل ہوں۔

بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیٹ نے اعلان کیا کہ اترپردیش اور اتراکھنڈ میں چکا جام نہیں ہوگا۔ بھارتیہ کسان یونین کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کسان کتنا زیادہ متحد ہیں۔ وہ حکومت کو اپنی طاقت دکھانا چاہتے ہیں۔ مشترکہ کسان مورچہ کے لیڈر ٹیکری اور سنگھو بارڈر سے اس ملک گیر چکا جام کو کوآرڈینیٹ کریں گے۔ اس چکا جام کا سب سے زیادہ اثر پنجاب اور ہریانہ میں نظر آنے کا امکان ہے۔ حالانکہ یہاں پولیس انتظامیہ پہلے سے ہی مستعد ہے۔ سیکورٹی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 06, 2021 02:39 AM IST