உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسان آندولن پر سپریم کورٹ کا سوال ، عدالت میں چل رہا معاملہ تو سڑک پر احتجاج کیوں؟

    سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو ۔

    سپریم کورٹ ۔ فائل فوٹو ۔

    Supreme Court on Farmers Protest : عدالت عظمیٰ نے کہا کہ احتجاج کرنے کے بنیادی حقوق کے معاملے پر ایک بڑا بنچ غور کرے گا۔ اس موضوع سے متعلق دیگر زیر التوا معاملات کو عدالت عظمیٰ میں منتقل کیا جائے گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر ستیہ گرہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو کہا کہ عدالت اس بات پر غور کرے گی کہ کیا احتجاج کرنے کا حق ہے۔ درحقیقت یہ ایک بنیادی حق ہے۔ جسٹس اے ایم کھانولکر کی سربراہی میں بنچ نے راجستھان کے کسانوں کی تنظیم 'کسان مہا پنچایت' کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اتوار کو اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کے لکھیم پور کھیری تشدد میں کئی کسانوں اور دیگر کی ہلاکت کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسے فوری طور پر روکے جانے کا ذکرکرتے ہوئے پر تشدد تحریکوں پر سوال کرتے ہوئے سخت تنقیدیں کیں۔

      عدالت عظمیٰ نے کہا کہ احتجاج کرنے کے بنیادی حقوق کے معاملے پر ایک بڑا بنچ غور کرے گا۔ اس موضوع سے متعلق دیگر زیر التوا معاملات کو عدالت عظمیٰ میں منتقل کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے پوچھا کہ نئے زرعی قوانین پر مرکز کی پابندی کے بعد بھی سڑکوں پر احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟ عدالت نے زرعی قوانین کو روک دیا ہے اور ایگزیکٹو نے ان پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ اس کے باوجود ہر روز سڑکوں پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں ، لیکن پرتشدد واقعات کی صورت میں کوئی بھی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

      عدالت نے کہاکہ زرعی قوانین کی صداقت کا فیصلہ عدالت کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا اور صرف عدالت اس سے متعلقہ تمام ضروری سماعت کر رہی ہے۔ ایڈوکیٹ اجے چودھری ، جو کہ مہا پنچایت کی طرف سے پیش ہوئے نے، کہا کہ مظاہرے ، مذاکرات اور مباحثہ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں۔

      درخواست گزار کسان مہا پنچایت کے وکیل نے کہاکہ کسان احتجاجی مقام کے اطراف سڑکوں پر ٹریفک کو روکنے میں ملوث نہیں تھا۔ پولیس سڑکوں کو جام کرتی ہے۔ اس سے قبل کی سماعت میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے حکم پر پولیس سڑکیں بند کرتی ہے۔ کسان مہا پنچایت کو ستیہ گرہ کے لیے جنتر منتر پر اجازت دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ اب اگلی سماعت 21 اکتوبر کو کرے گی۔

      واضح رہے کہ مہا پنچایت نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر علاقے میں 200 کسانوں کے ساتھ پرامن ستیہ گرہ کی اجازت مانگی گئی اور کہا گیا کہ حکومت اس کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: