ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

حکومت اورکسانوں کے درمیان میٹنگ ختم، کسانوں نے ہاں اور نا میں مانگا جواب، 9 دسمبر کو پھر ہوگی میٹنگ

حکومت اور کسان تنظیموں کی ہفتے کے روز ہوئی پانچویں دور کی میٹنگ میں بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہو سکا۔ حکومت نے کسان تنظیموں کو نو دسمبر کو اگلے دور کی بات چیت کی تجویز رکھی ہے، جسے کسانوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ گفتگو میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور اشیائے خوردنی اور سپلائی کے مرکزی وزیر پیوش گویل کے علاوہ 40 کسان تنظیموں کے نمائندوں نے اس میٹنگ میں حصہ لیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 05, 2020 11:04 PM IST
  • Share this:
حکومت اورکسانوں کے درمیان میٹنگ ختم، کسانوں نے ہاں اور نا میں مانگا جواب، 9 دسمبر کو پھر ہوگی میٹنگ
حکومت اور کسانوں کے درمیان میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔ کسانوں نے ہاں اور نا میں جواب طلب کیا ہے۔ 9 دسمبر کو ایک بار پھر میٹنگ ہوگی۔

نئی دہلی: حکومت اور کسان تنظیموں کی ہفتے کے روز ہوئی پانچویں دور کی میٹنگ میں بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہو سکا۔ حکومت نے کسان تنظیموں کو نو دسمبر کو اگلے دور کی بات چیت کی تجویز رکھی ہے، جسے کسانوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ گفتگو میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور اشیائے خوردنی اور سپلائی کے مرکزی وزیر پیوش گویل کے علاوہ 40 کسان تنظیموں کے نمائندوں نے اس میٹنگ میں حصہ لیا۔ کسان تنظیموں نے آٹھ نومبر کو’بھارت بند‘ کی اپیل ہے۔ کسان تنظیم اس پر قائم ہیں۔ بند کو کئی ٹریڈ یونین تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نے حمایت دی ہے۔ کچھ کسان رہنماؤں نے کہا کہ حکومت نے کچھ لچیلا موقف اختیار کیا ہے لیکن وہ تین زرعی قوانین کو واپس لیے جانے کی مانگ پر بضد ہیں۔


تقریباً پانچ گھنٹے تک چلنے والی میٹنگ کے بعد نریندر تومر نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کی تحفظ کے تئیں مکمل پابند عہد ہے۔ اے پی ایم سی کا مسئلہ ریاستوں سے متعلق ہے اور مرکزی حکومت اسے مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ کسان رہنما کچھ مشورے دیتے تو مسائل کا تدارک آسان ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ چھ سال کی مودی حکومت کی مدت کار کے دوران کھیتی کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں جن سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ زرعی بجٹ بڑھایا گیا، زرعی پیداوار کا کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) بڑھائی گئی، فصلوں کی خرید بڑھی اور نئی ٹیکنالوجیز کو اختیار کیا گیا۔ ’کسان سمَّان ندھی یوجنا‘ کے تحت کسانوں کو ایک سال میں 75 ہزار کروڑ روپیے کی مالی امداد دی گئی ہے۔ ایگریکلچر انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت ایک لاکھ کروڑ روپیے کا التزام کیا گیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ کسان جب تک پروسیسنگ سے نہیں کریں گے تب تک فصلوں کی اچھی قیمت نہیں ملے گی۔ کسان رہنما پال کارن سنگھ براڑ نے کہا میٹنگ کے دوران حکومت نے جو دلیل دی اسے خارج کر دیا گیا۔ کسانوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت تینوں قوانین کو رد کریں۔ حکومت نے تینوں قوانین میں ترمیم کی تجویز دی ہے۔ بات چیت شروع ہونے سے قبل وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر تومر اور مسٹر گویل کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی حصہ لیا۔ یہ میٹنگ تقریباً دو گھنٹے تک چلی۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 05, 2020 10:58 PM IST