ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Farmers Protest: آج کسان کریں گے جنتر منتر پر احتجاج، دہلی حکومت سے ملی اجازت

متحدہ کسان مورچہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ "کسان پارلیمنٹ" پورے مانسون سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے قریب ہی چلائی جائیگی۔متحدہ کسان مورچہ نے دعوی ٰکیا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے کسان بڑی تعداد میں دہلی پہنچ رہے ہیں۔

  • Share this:
Farmers Protest: آج  کسان  کریں گے جنتر منتر پر احتجاج، دہلی حکومت سے ملی اجازت
فائل فوٹو

آج 200 کے قریب کسان بسوں کے ذریعے جنتر منتر پر پْرامن احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ جنتر منتر پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کسان صبح 10:30 بجے جنتر منتر پہنچیں گے۔ جنتر منتر میں چرچ کے قریب انہیں پر امن طریقے سے احتجاجی دھرنا دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔ کسانوں کی حفاظت کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی 5 کمپنیاں تعینات کردی گئیں۔ شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ہی ہر ایک شخص کو بیرک کے اندر داخلے کی اجازت ہوگی۔ شام 5 بجے ، کسان اپنا احتجاج ختم کریں گے اور سنگھو بارڈر پر واپس چلے جائیں گے۔


متحدہ کسان مورچہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ "کسان پارلیمنٹ" پورے مانسون سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے قریب ہی چلائی جائیگی۔متحدہ کسان مورچہ نے دعوی ٰکیا کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے کسان بڑی تعداد میں دہلی پہنچ رہے ہیں۔



دہلی حکومت نے کسانوں کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت دے دی ہے ۔ دہلی حکومت نے باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔ 22 جولائی سے 9 اگست ، صبح 11 بجے سے شام 5:00 بجے تک ، متحدہ کسان مورچہ کے زیادہ سے زیادہ 200 مظاہرین کو احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کورونا قوانین کے ساتھ مظاہرے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس وقت دہلی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ نافذ ہے ، جس کی وجہ سے ڈی ڈی ایم اے کی ہدایت نامے کے تحت کوئی اجتماع نہیں ہوسکتا ہے لیکن کسانوں کی نقل و حرکت کے لئے، دہلی حکومت نے ہدایات میں ترمیم کرکے اجازت دے دی ہے۔

یہاں ، سنگھ بارڈر پر پہنچنے کے بعد ، INLD رہنما اور ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالا نے کہا کہ وہ کل پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل دہلی میں دھرنا دیں گے اور سب مل کر پارلیمنٹ میں جاکر کالے قانون کی مخالفت کریں گے۔حکومت کو قانون واپس لینے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔

ال قلعے کی سکیورٹی کے حوالے سے ، ایڈیشنل ڈی سی پی انیتا رائے نے کہا کہ یہاں تین شفٹوں میں سکیورٹی اہلکار کام کررہے ہیں۔ لال قلعے کو 24 گھنٹے سکیورٹی کوریج دی جارہی ہے۔ لال قلعے کو جانے والی تمام سڑکوں پر بھی سکیورٹی سخت انتظامات کیے جارہے ہیں۔ ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنائی ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 22, 2021 08:35 AM IST