ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی تشدد پر پولیس کمشنر نے کہا- تشدد میں شامل تھے کسان لیڈران، کسی قصور وار کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا

Farmers Tractor Rally Violence: دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 93 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 200 دیگر لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔

  • Share this:
دہلی تشدد پر پولیس کمشنر نے کہا- تشدد میں شامل تھے کسان لیڈران، کسی قصور وار کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا
تشدد میں شامل تھے کسان لیڈر، کسی قصور وار کو بخشا نہیں جائے گا: دہلی پولیس کمشنر

نئی دہلی: دہلی پولیس (Delhi Police) نے بدھ کو الزام لگایا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر پریڈ (Tractor Parade) کے دوران کسان لیڈروں نے اشتعال انگیز خطاب کیا اور تشدد میں بھی شامل رہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے زور دے کر کہا ہے کہ کسی بھی قصور وار کو بخشا نہیں جائے گا۔ واضح رہے کہ ان حادثات میں دہلی پولیس کے 394 اہلکار زخمی ہوئے۔ دہلی کے پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کسان یونینوں نے ٹریکٹر پریڈ کے لئے طے شرائط پر عمل نہیں کیا۔ پریڈ دوپہر 12 بجے سے شام پانچ بجے کے درمیان ہونی تھی اور اس میں 5,000 ٹریکٹروں کو شامل ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس نے زبردست تحمل کا مظاہرہ کیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے متعلق کسان لیڈروں سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔


پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے کہا، ’پولیس کے پاس کئی متبادل تھے، لیکن اس نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے حالات کو صحیح طریقے سے سنبھالا، اس لئے ٹریکٹر پریڈ کے دوران ہوئے تشدد میں پولیس کی کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا’۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 25 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، 19 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور 50 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے’۔ ایک افسر نے بتایا کہ ٹریکٹر پریڈ میں ہوئے تشدد کے حادثات کی جانچ کرائم برانچ، اسپیشل برانچ اور دہلی پولیس کی ضلع یونٹ کی مشترکہ ٹیم کرے گی۔


قوانین کو واپس کرانا تھا پریڈ کا ہدف


یوم جمہوریہ پر منعقدہ کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کا مقصد زرعی قوانین کو واپس لینے اور فصلوں کے لئے کم از کم سپورٹ قیمت (منیمم سپورٹ پرائز) کی قانونی گارنٹی کا مطالبہ کرنا تھا۔ دہلی پولیس نے راج پتھ پر تقریب ختم ہونے کے بعد طے شدہ راستے سے ٹریکٹر پریڈ نکالنے کی اجازت دی تھی، لیکن ہزاروں کی تعداد میں کسان وقت سے پہلے مختلف سرحدوں پر لگے بیرکیٹنگ کو توڑتے ہوئے دہلی میں داخل ہوگئے، کئی جگہ پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی اور پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کا سہارا لینا پڑا۔

کسانوں کے ایک گروپ نے لال قلعہ کے گنبد پر مذہبی جھنڈے لگائے

پولیس کمشنر نے کہا کہ پولیس لال قلعہ پر ہوئے حادثہ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہم چہرے سے لوگوں کا پتہ لگانے والے سسٹم، سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ملزمین کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کی پہچان ہوگی، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، کسی قصور وار کو بخشا نہیں جائے گا‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ سابق لیڈروں جیسے ستنام سنگھ پنو اور درشن پال نے اشتعال انگیز تقریریں کی، جس کے بعد مظاہرین نے بیریکیٹ توڑے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 28, 2021 08:43 AM IST