உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Farmers Protest:حکومت نےکسانوں کےتمام مطالبات کیے قبول، کسان تحریک ختم، کل گھرواپس ہونگے کسان

    کسان تحریک ختم کرنے کا اعلان ۔(تصویر:اے پی )۔

    کسان تحریک ختم کرنے کا اعلان ۔(تصویر:اے پی )۔

    Farmers Protest:بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے باضابطہ خط ملنے کے بعد کسان پوری طرح سے مطمئن ہیں اور وہ جلد ہی تحریک ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ کسان لیڈر اشوک دھاولے نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک سرکاری خط موصول ہوا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی کے مضافات میں کسانوں کا احتجاج (Farmers Protest)ختم کرنے کا اعلان ہوگیاہے۔احتجاجی کسان کل گھر واپس ہوجائیں گے۔کسان تنظیموں کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاہے۔ حکومت نے کسانوں کو باضابطہ خط بھیجا ہےجس میں تمام اہم مطالبات کو تسلیم کر لیا گیاہے۔ حکومت نے کسانوں کے خلاف مقدمات واپس لینے کامطالبہ قبول کرلیاہے۔ اس کے علاوہ پر احتجاجی کسانوں پر کوئی فوجداری مقدمات درج نہیں کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران مارے گئے تمام کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا۔ پنجاب، اتر پردیش اور ہریانہ کی حکومتیں پہلے ہی احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ اور نوکریوں کا اعلان کر چکی ہیں۔

      بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی طرف سے باضابطہ خط ملنے کے بعد کسان پوری طرح سے مطمئن ہیں اور اسی لیے تحریک ختم کرنے کا اعلان کیاگیاہے۔ کسان لیڈر اشوک دھاولے نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک سرکاری خط موصول ہوا ہے۔ یہ خط متحدہ کسان مورچہ کی میٹنگ میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خط ابھی تک نہیں کھولا گیا۔ اس سے قبل حکومت نے کسانوں کو سادہ کاغذ پر تجاویز بھیجیں تھی


      بدھ کے روز، پانچ سینئر کسان رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے دی گئی نئی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ ان میں ہزاروں کسانوں کے خلاف درج پولیس مقدمات کو فوری واپس لینے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ حکومت نے منگل کی شام کسانوں کو ایک تجویز بھی بھیجی تھی، جس میں کم از کم امدادی قیمت یعنی MSPکا مطالبہ کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا یقین دلایا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد کسان مسلسل احتجاج کے دوران درج پولیس مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

      کسانوں کے مطالبات پر ایک نظر

      تین زرعی قوانین کی منسوخی کے بعد بھی کسانوں نے حکومت کے سامنے نئے مطالبات رکھے تھے۔ ان میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کسان تحریک کے دوران کسانوں کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات کو واپس لینا، احتجاج کے دوران اپنی جان گنوانے والے کسانوں کے خاندانوں کو معاوضہ، بجلی ترمیمی بل پر بات چیت کروانا شامل تھا۔

      اس کے علاوہ کسانوں نے کم از کم امدادی قیمت پر بحث کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا جس کے اراکین کا انتخاب ایس کے ایم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایم ایس پی بات چیت جاری رہے گی۔ پنجاب کی طرح ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے بھی مرنے والے کسانوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے معاوضہ اور نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: