உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ کا متنازعہ بیان، کہا۔ اللہ کو یہی منظورہوگا کہ ہم ان سے آزاد ہوجائیں

    ریاست کے مسلم اکثریتی موقف کو تبدیل کرنے کی بڑی سازش ہورہی ہے۔فاروق عبداللہ

    ریاست کے مسلم اکثریتی موقف کو تبدیل کرنے کی بڑی سازش ہورہی ہے۔فاروق عبداللہ

    ریاست کے مسلم اکثریتی موقف کو تبدیل کرنے کی بڑی سازش ہورہی ہے۔فاروق عبداللہ

    • Share this:
      نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹرفاروق عبداللہ نے آج ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ بی جے پی کے انتخابی منشورمیں دفعہ370 کو منسوخ کرنے سے متعلق فاروق عبداللہ نےکہا کہ اگراس دفعہ کومنسوخ کیاجاتاہے توریاست کاملک سے الحاق کیسے باقی رہے گا۔ فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ اللہ کو یہی منظورہوگا کہ ہم ان سے آزاد ہوجائیں۔ این سی صدر،ڈاؤن ٹاؤن سرینگرمیں ایک مجمع سے خطاب کررہے تھے۔

      فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست کے مسلم اکثریتی موقف کو تبدیل کرنے کی بڑی سازش رچی جارہی ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرایسی کوئی کوشش ہوتی ہے تووہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں کشمیر کے خصوصی درجے کی ضامن دفعہ370 ہٹائی گئی تو ہم آزاد ہوجائیں گے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر دفعہ 370 ہٹائی گئی تو الحاق نہیں رہے گا، اللہ کی قسم کہتا ہوں کہ میرے خیال میں اللہ کو یہی منظورہے، ہم ان سے آزاد ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ ان کا جھنڈا یہاں کون کھڑا کرے گا۔ان کا کہنا تھا 'بی جے پی نے اپنا منشور جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم دفعہ 370 کو ختم کریں گے۔

      یہ آئین میں ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کرناچاہتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم باہر سے لوگوں کو لائیں گے اور انہیں یہاں بسائیں گے۔ ہم کیا سوتے رہیں گے؟ ہم مقابلہ کریں گے انشاء اللہ۔ ہم اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے۔ دفعہ 370 کو ختم کرو گے تو الحاق ختم ہوجائے گا۔ اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میرے خیال میں اللہ کو یہی منظور ہے اور ہم ان سے آزاد ہوجائیں گے۔ میں بھی دیکھتا ہوں کہ کون ان کا جھنڈا کھڑا کرنے کے لئے تیار ہوگا۔ ہمارے دلوں کو توڑنے کے کام مت کرو'۔دفعہ 35 اے کی منسوخی کے حوالے سے فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ 'تم (دلی والے) سمجھتے ہو کہ دفعہ 35 اے ہٹاکر ہمارے حق کو کھاؤ گے یہاں اکثریت مسلانوں کی ہے تم اس کو تبدیل نہیں کرسکتے ہو۔
      First published: