உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: پاکستانی ماڈیول کیس میں گرفتاردہشت گردکے والد کوتربیت کے لیے ادا کی گئی بڑی رقم!

    Youtube Video

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدور کو جلد ہی ہندوستان کے حوالے کرنے کا امکان ہے اور ہندوستانی حکومت اس کے لیے دبئی حکام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      پاکستان کی حمایت یافتہ مبینہ دہشت گرد ماڈیول کو کثیر ریاستی آپریشن کے تحت گرفتار کیا گیا۔ سی این این نیوز 18 کی تفتیش کے مطابق ان میں کے چھ افراد نے پڑوسی ملک تک پہنچنے کے لیے مختلف زمینی اور سمندری راستے اختیار کیے تھے اور انہیں 16 دن تک آئی ای ڈی، اسلحہ اور آتش زنی کی تربیت دی گئی تھی۔

      اسامہ کے والد اس کیس میں گرفتار ملزموں میں سے ایک ہیں۔ ان کو دبئی سے جلد ہی ہندوستانی حکام کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ عبدور نے دہشت گردی کے تربیتی کیمپ کے اخراجات ادا کیے تھے۔


      دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے منگل کو پاکستان کے زیر انتظام دہشت گردی کے ماڈیول کا پردہ فاش کیا جس میں چھ افراد بشمول پاک-آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔ اترپردیش، دہلی اور مہاراشٹر میں گنیش چتروتی ، نوراتری اور رام لیلا کے تہواروں کے دوران منصوبہ بنا رہے تھے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ انہیں شیخ عرف 'سمیر' ، اسامہ (22) ، مول چند (47) اور محمد ابوبکر (23) کو تحویل میں دیا گیا ہے۔ ذیشان قمر (28) اور محمد عامر جاوید (31) اس وقت لکھنؤ میں ہیں، انھیں بدھ کی سہ پہر تک پیش کیا جائے گا تاکہ ان کی تحویل کا فیصلہ کیا جا سکے۔

      پوچھ گچھ میں بتایا گیا کہ اسامہ لکھنؤ سے مسقط گیا تھا، جہاں ذیشان پہلے ہی تھا اور وہاں سے چھ ملزمان نے پاکستان پہنچنے کے لیے مختلف زمینی اور سمندری راستے اختیار کیے تھے۔

      انہیں 16 دن تک آئی ای ڈی ، اسلحہ اور آتش زدگی سے متعلق سرگرمیوں کی تربیت دی گئی۔ ان سب نے درست سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کیا تھا، لیکن عمان کے بعد ان کے پاسپورٹ پر کوئی ڈاک ٹکٹ نہیں ہے۔ پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ایران اور پاکستان کے سمندر کو عبور کرتے ہیں۔

      ملزمان کا دعویٰ ہے کہ ان کی کوئی چیکنگ نہیں کی گئی اور انہیں ایک انسانی اسمگلر کے ذریعے عمان سے پاکستان لے جایا گیا، جہاں انہیں تین کوچز آصف ، حمزہ اور زبر نے ہدایت دی۔


      اس آپریشن کی لاگت تقریبا 3 لاکھ روپے تھی ، جسے اسامہ کے والد عبدور نے دبئی سے منتقل کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدور کو جلد ہی ہندوستان کے حوالے کرنے کا امکان ہے اور ہندوستانی حکومت اس کے لیے دبئی حکام پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
      ان کا مسقط سے ایران تک کا راستہ سمندر سے تھا ، اور بعد میں زمینی راستے سے یہ سفر طئے کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کے گوادر ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے پانی کا راستے اختیار کیا۔ یہ ایک آزاد ماڈیول تھا اور تربیت میں کسی دوسرے شخص سے منسلک نہیں تھا۔ انہوں نے کراچی میں ٹھٹھہ کے ایک فارم ہاؤس میں تربیت حاصل کی اور مکمل ہونے کے بعد وہ اسی راستے سے واپس آئے۔

      جان محمد شیخ کو ’ڈی کمپنی‘ نے ٹاسک دیا تھا کہ وہ دھماکہ خیز مواد حاصل کرے اور انہیں ملک کے دیگر حصوں میں لے جائے۔ 'ڈی کمپنی' ایک اصطلاح ہے جو مفرور ڈان داؤد ابراہیم کے زیر کنٹرول انڈر ورلڈ کرمنل سنڈیکیٹ کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: