உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرایہ دار کی دھمکیوں سے تنگ آکر مکان مالک نے خودکشی کرلی، ایک ہفتے کے بعد ویڈیووائرل، پولیس کی گرفت سےملزم فرار

    کرایہ دار کی دھمکیوں سے تنگ آکر مکان مالک نے خودکشی کرلی، ایک ہفتے کے بعد ویڈیووائرل

    کرایہ دار کی دھمکیوں سے تنگ آکر مکان مالک نے خودکشی کرلی، ایک ہفتے کے بعد ویڈیووائرل

    کرایہ دار نے مالک مکان کو خودکشی پر مجبور کیا۔ کرایہ دار کی دھمکیوں سے تنگ آکر مالک مکان نے خودکشی کرلی۔ ایک ہفتے کے بعد ویڈیو وائرل ہوا ہے اور پولیس کو خودکشی کا نوٹ برآمد ہوا ہے۔

    • Share this:
    ممبئی: کورونا وبا کے دوران حکومتوں نے مکان مالکان سے رحم دلی اور انسانیت کے ساتھ مثبت برتاؤ کی توقع کی تھی اور اپیل کی تھی کہ اگر کرایہ دار کورونا کے دوران کرایہ ادا نہیں کر سکتا تو مالک مکان کرایہ دار کو پریشان نہ کریں، لیکن یہاں تو اس کے بالکل برعکس واقعہ سامنے آیا ہے اور یہ انتہائی حیران کرنے والا سانحہ ہے۔ کرایہ دار نے مالک مکان کو اتنا ہراساں کیا کہ آخر کار مالک مکان نے خودکشی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق، مکان مالک نے پہلے موبائل میں خودکشی کا ویڈیو بنایا۔ ساتھ ہی خود کشی نوٹ لکھ کرگلے میں پھندا لٹکا کر خودکشی بھی کرلی۔ یہ پورا معاملہ ناگپور کا ہے۔

    ناگپور کے جھری پھاٹا تھانہ علاقے میں خودکشی کرنے والے مالک مکان کا نام مکیش سریچند رجوانی ہے۔ رجوانی نے مئی 2019 میں مکان کرایہ پر راجیش کھیتیا کو دیا تھا، کچھ دنوں کے بعد راجیش نے اپنے بھائی مولچند کی مدد سے مالک مکان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ دونوں ناگپور کارپوریشن اور ناگپور امپرومنٹ ٹرسٹ میں گھروں کی غیر قانونی تعمیر کی شکایات کے بارے میں بلیک میل کرتے رہتے ہیں اور بدلے میں 4.5 لاکھ روپئے بھی وصول کرتے ہیں۔

    مکان مالک اس سے تنگ آگیا اور آخر کار مالک مکان نے خود کشی کرلی۔ یہ معاملہ 6 اکتوبر کو سامنے آیا۔ اس کے بعد پولیس میں معاملہ درج کرلیا ہے۔ اچانک مالک مکان کی خودکشی کا ویڈیو منظر عام پر آیا اور وہاں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ وائرل ویڈیو جھری پھاٹا تھانے تک بھی پہنچ گیا، جس کے بعد پولیس حرکت میں آگئی اور گھرکی تلاشی لی گئی اور خودکشی کا نوٹ بھی ملا۔ پولیس نے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ کے اندراج کے بعد پولیس نے دونوں ملزمین کی تلاش شروع کردی ہے۔ دونوں بھائی مفرور ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: