உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Namaz in Open Space: یو پی میں 25 افرادکےخلاف ایف آئی آر درج! کھلی جگہ پر نمازپڑھنےکاالزام

    کھلی جگہ پر نمازپڑھنےکاالزام

    کھلی جگہ پر نمازپڑھنےکاالزام

    Namaz in Open Space: ایف آئی آر میں نامزد لوگوں میں سے ایک نے بتایا کہ پولیس میں یہ شکایت 3 جون کو درج کی گئی تھی اور 24 اگست کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب کہ اس سے پہلے ہمیں کبھی اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Moradabad Pahari, India
    • Share this:
      مرادآباد (یوپی): مراد آباد میں پولیس نے 25 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جو کہ کھلی جگہ پر نماز (Namaz in Open Space) ادا کررہے تھے۔ جب کہ ان میں سے بعض نمازیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کی نجی ملکیت ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مقدمہ تعزیرات ہند کی دفعہ 505 (عوامی فساد) کے تحت چجلیت پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ انتباہ کے باوجود اتر پردیش کے ڈیلے پور گاؤں میں کھلی جگہ پر نماز ادا کی جارہی تھی۔

      مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پولیس اور دائیں بازو کے ایک گروپ کے ذریعہ نشانہ بنایا جارہا ہے، جب کہ دستور ہند ہر ایک کو عبادت کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد لوگوں میں سے ایک شخص نے بتایا کہ پولیس میں یہ شکایت 3 جون کو درج کی گئی تھی اور 24 اگست کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جب کہ اس سے پہلے ہمیں کبھی اس کی اطلاع نہیں دی گئی۔

      زمین کے قانونی مالک کون ہے؟

      ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سندیپ کمار مینا نے کہا کہ گاؤں والوں نے انتباہ کے باوجود کھلی جگہ پر نماز پڑھنا جاری رکھا اور انھیں نماز اپنے گھروں پر پڑھنے کو کہا گیا۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر ہم نے 25 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ واحد سیفی کا نام بھی ایف آئی آر میں درج ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس زمین کے قانونی مالک ہیں جہاں آزادی کے بعد سے کثرت سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ لیکن حال ہی میں کچھ شرپسندوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ایک نیا عمل ہے۔ انہوں نے 3 جون کو پولیس سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تمام کاغذات کی جانچ کی اور ایس ڈی ایم کے دفتر میں حاضر ہونے کے لیے سمن جاری کیا۔

      واحد سیفی نے کہا کہ ہم نے 3 جون کو ایس ڈی ایم آفس کا دورہ کیا جہاں سرکل آفیسر کانتھ سلونی اگروال بھی موجود تھے۔ تمام قانونی کاغذات ہماری طرف سے پیش کیے گئے لیکن انہوں نے ہمیں کھلی جگہ پر نماز نہ پڑھنے کی تنبیہ کی، تب سے ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن ایس ایچ او کے تبادلے کے بعد 24 اگست کو چجلیت پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Rakesh Tiwari: عام بول چال میں شاعری بنی کمائی کا ذریعہ! فل ٹائم شاعر راکیش تیواری کون ہے؟

      فرقہ وارانہ ہم آہنگی اب بھی برقرار:

      سیفی نے کہا کہ ہم سب کسی بھی کیس کے بارے میں لاعلم تھے اور ہمیں میڈیا سے اس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔ مرادآباد سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی ہاسن نے کہا کہ گاؤں کا دورہ کرنے پر انھوں نے دیکھا کہ گاؤں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار ہے لیکن کچھ شرپسندوں نے پولیس اسٹیشن میں شکایت کی جو بے بنیاد ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Reliance 45th AGM: ریلائنس کے چیئرمین مکیش امبانی نے کہا- ریلائنس نے دی سب سے زیادہ نوکریاں



      انھوں نے کہا کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ایس ایچ او کے تبادلے کے بعد ایف آئی آر درج کرادی۔ ان کی موجودگی میں تمام گاؤں والوں کی ایک میٹنگ ہوئی اور ایک مندر اور ایک مسجد کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ایم پی فنڈ سے تعمیر کیا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: