ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

تبلیغی جماعت کے 26 بیرون ممالک کے اراکین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ نے ایف آئی آر منسوخ کی- عدالت نے کہا- انہیں بلی کا بکرا بنایا گیا

ہائی کورٹ کی بینچ کے تمام عرضی گزاروں نے کہا کہ وہ ہندوستان کی حکومت کے ذریعہ جاری ویزا پر ہندوستان آئے تھے۔ یہاں آنے کا مقصد تھا کہ وہ ہندوستان کی تہذیب، مہمان نوازی اور کھانے کا تجربہ کریں گے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر ان کی جانچ کی گئی اور جب وہ نگیٹیو پائے گئے تبھی انہیں باہر آنے دیا گیا۔

  • Share this:
تبلیغی جماعت کے 26 بیرون ممالک کے اراکین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ نے ایف آئی آر منسوخ کی- عدالت نے کہا- انہیں بلی کا بکرا بنایا گیا
تبلیغی جماعت کے 29 بیرون ممالک کے اراکین کے خلاف ایف آئی آر بامبے ہائی کورٹ نے منسوخ کی

ممبئی: بامبے ہائی کورٹ (Bombay High court) نے تبلیغی جماعت (Tablighi Jamaat) کے 26 غیر ملکی اراکین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے۔ ان 26 غیر ملکی لوگوں پر تعزیرات ہند (IPC)، مہاماری بیماریوں کا ایکٹ، مہاراشٹر پولیس ایکٹ، فارن سول ایکٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے الگ الگ التزام کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور اس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ٹورسٹ ویزا کی خلاف ورزی کی۔ واضح رہے کہ یہ سبھی لوگ راجدھانی دہلی واقع مرکز حضرت نظام الدین کے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شامل ہوئے تھے اور اسی الزام میں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔


ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے جسٹس ٹی وی نلواڑے اور جسٹس ایم جی سیولکر کی بینچ نے تین الگ الگ پٹیشن کی سماعت کی، جسے آئیوری کوسٹ، گھانا، تنزانیہ، بینن اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے افراد نے دائر کی تھی۔ ان سبھی عرضیوں کو پولیس نے مبینہ طور پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر الگ الگ مساجد میں رہنے اور لاک ڈاون کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کے الزامات میں معاملہ درج کیا تھا۔


بامبے ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت کے 29 غیر ملکی اراکین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت کے 29 غیر ملکی اراکین کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کردیا ہے۔


اورنگ آباد بینچ سے عرضی گزار نے اور کیا کہا؟

ہائی کورٹ کی بینچ کے تمام عرضی گزاروں نے کہا کہ وہ ہندوستان کی حکومت کے ذریعہ جاری ویزا پر ہندوستان آئے تھے۔ یہاں آنے کا مقصد تھا کہ وہ ہندوستان کی تہذیب، مہمان نوازی اور کھانے کا تجربہ کریں گے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر ان کی جانچ کی گئی اور جب وہ نگیٹیو پائے گئے تبھی انہیں باہر آنے دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احمد نگر کے پولیس افسر کو آنے کی اطلاع دی تھی۔ 23 مارچ کو لاک ڈاون نافذ کئے جانے کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی۔ ہوٹل اور لاج بند ہونے کی وجہ سے انہیں مسجد میں رہنا پڑا۔ عدالت کے سامنے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی بھی طرح سے ضلع مجسٹریٹ کے حکم کی خلاف ورزی میں ملوث نہیں تھے اور مرکز میں بھی سوشل ڈیسٹنسنگ کے ضوابط پر عمل کیا گیا۔

عدالت نے کہا- تبلیغی جماعت کے اراکین نایا گیا بلی کا بکرا

اس معاملے کی سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں اورنگ آباد کی بینچ نے پایا کہ ریاستی حکومت نے سیاسی مجبوری کے تحت کام کیا اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف ایف آئی آر کو بدقسمتی مانا جاسکتا ہے۔ عدالت نے سبھی کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کردیا۔ جسٹس نلوڑے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب وبا یا پریشانی آتی ہے تو حکومت بلی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ابھی کے حالات بتا رہے ہیں کہ اس بات کے آثار ہیں کہ غیر ممالک کو بلی کا بکرا بنانے کے لئے منتخب کیا گیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 22, 2020 04:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading