اورنگ آباد:حارث قتل کیس میں ایک سال بعد بھی درج نہیں ایف آئی آر۔ پولیس پر جانب داری کا الزام

اورنگ آباد میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کو ایک سال مکمل

May 14, 2019 12:35 PM IST | Updated on: May 14, 2019 12:38 PM IST
اورنگ آباد:حارث قتل کیس میں  ایک سال بعد بھی  درج نہیں ایف آئی آر۔ پولیس پر جانب داری کا الزام

علامتی تصویر

اورنگ آباد میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے ، اس فساد میں دو افراد کی جانیں گئیں، سینکروں افراد زخمی ہو ئے۔ کروڑوں روپئے کی املاک تباہ ہوئی تھیں ۔اس فساد میں جن کا نقصان ہوا ان کی تھوڑی بہت بھر پائی ہوگئی لیکن اپنے سترہ سالہ بیٹے کو کھونے والے ہارون قادری کی تو دنیا اجڑ گئی

ایک سال پہلے اورنگ آباد کے شاہ گنج منڈی علاقہ ، کپتان کلر اور دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا اس فساد میں ایک سن رسیدہ شخص جل کر ہلاک ہوگیا تھا جبکہ سترہ سالہ حارث قادری کی گولی لگنے سے موت ہوئی تھی ، جنسی علاقے میں پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی جس میں حارث کی موت ہوگئی، قابل ذکر بات یہ ہیکہ سن رسیدہ شخص کی موت کے معاملے میں سٹی چوک پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ حارث قتل کیس میں ایک سال بعد بھی ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی ۔

حارث قتل کیس میں پولیس کے جانبدارانہ رول پر سوال تو اٹھ ہی رہے ہیں ساتھ علاقائی قیادت کی بے حسی پر بھی لوگوں میں ناراضگی ہے ، کیونکہ مقامی لیڈروں کی یقین دہانی کے بعد ہی لاش تحویل میں لی گئی تھی لیکن ایک سال گزرجانے کے باوجود حارث کے والدین عدالتی جھمیلوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں حارث کیس کے وکیل نے بھی پولیس کی جانبداری پر سوال اٹھایا ہے ۔

جواں سال بیٹے سے محرومی کسی بھی باپ کے لیے جان لیواں صدمے سے کم نہیں ، ہارون قادری جس کرب سے گزررہے ہیں اُنھیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ،اس دکھ کا مداوا بس یہی ہوسکتا ہیکہ ایک مظلوم باپ کو انصاف مل جائے ۔ واضح رہے کہ اورنگ آباد میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے ، اس فساد میں دو افراد کی جانیں گئیں، سینکروں افراد زخمی ہو ئے۔ کروڑوں روپئے کی املاک تباہ ہوئی تھیں ۔اس فساد میں جن کا نقصان ہوا ان کی تھوڑی بہت بھر پائی ہوگئی لیکن اپنے سترہ سالہ بیٹے کو کھونے والے ہارون قادری کی تو دنیا اجڑ گئی ، ایک سال بعد بھی حارث قتل کیس میں ایف آئی آر تک درج نہیں ہو پائی ہے ۔ نیوز18اردو کے لیے اورنگ آباد سے اظہر الدین کی رپورٹ

Loading...

Loading...