ہوم » نیوز » وطن نامہ

لوک سبھا : شہریت ترمیمی بل پربحث کے حق 303 ووٹ، خلاف میں 82 ووٹ پڑے

ووٹنگ کے نتیجہ میں 293 ووٹ بل پیش کیے جانے کے حق میں جب کہ 82 ووٹ بل پیش نہ کیے جانے کے حق میں پڑے

  • Share this:
لوک سبھا : شہریت ترمیمی بل پربحث کے حق 303 ووٹ، خلاف میں 82 ووٹ پڑے
لوک سبھا : شہریت ترمیمی بل پربحث کے حق 303 ووٹ، خلاف میں 82 ووٹ پڑے

شہریت ترمیمی بل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں پیش کیا تھا- لیکن اس کے خلاف لوگ آواز اٹھانے لگے اور اپوزیشن لیڈران نے کہا کہ بل پیش کیا جائے یا نہیں، اس پر بھی بحث ہونی چاہیے۔ کافی ہنگامے کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے سبھی لوک سبھا اراکین سے اس بات کے لیے ووٹنگ کرائی کہ بل پیش کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ اس ووٹنگ کے نتیجہ میں 293 ووٹ بل پیش کیے جانے کے حق میں جب کہ 82 ووٹ بل پیش نہ کیے جانے کے حق میں پڑے۔ اس نتیجہ کو دیکھ کر ایک بات سامنے یہ بھی آتی ہے کہ بی جے پی کے 303 اراکین میں سے 10 اراکین اسمبلی کے ووٹ بل پیش کیے جانے کے حق میں نہیں پڑے۔


 


اس سے پہلے شہریت ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بل آئین کی روح کےخلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کےکسی آرٹیکل کےخلاف نہیں۔ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بل میں مسلمانوں کو نشانہ نہیں بنایاہے گیا۔ وہیں کانگریس کےادھیررنجن نے کہا کہ بل کےذریعہ ملک میں اقلیتوں کونشانہ بنایاگیاہے۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہلٹر کے نام کے مرکزی وزیرداخلہ کا نام لکھا جائیگا۔ اویسی نے کہا کہ وزیرداخلہ سے ملک کو بچاؤ۔

ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے شہریت ترمیمی بل پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج آئین بہت بڑے بحران کا شکار ہے۔ سوگت رائے کے اس بیان پر بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ ہنگامہ کر رہے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ سے سوگت رائے نے کہا کہ ’’ماریں گے کیا، آئیے ماریے۔‘‘ سوگت رائے نے کہا کہ یہ بل دفعہ 14 کے پوری طرح خلاف ہے۔  



First published: Dec 09, 2019 02:06 PM IST