உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال میں پہلے مائٹرا کلپ پروسیجر کا کامیاب تجربہ

    ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال میں پہلے مائٹرا کلپ پروسیجر کا کامیاب تجربہ

    ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال میں پہلے مائٹرا کلپ پروسیجر کا کامیاب تجربہ

    سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں مغربی ہند کا پہلا مائیٹرا کلپ پروسیجر کیا گیا، جن دو مریضوں پر یہ پروسیجر کیا گیا، انہیں 48 گھنٹوں کے اندر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی: سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں مغربی ہند کا پہلا مائیٹرا کلپ پروسیجر کیا گیا، جن دو مریضوں پر یہ پروسیجر کیا گیا، انہیں 48 گھنٹوں کے اندر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ اس سلسلے میں سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں کنسلٹنٹ، کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر مولک پاریکھ نے کہا ”سنگین مائٹرل ریگ گریٹیشن (لیک) سے نبرد آزما مریض اب ممبئی میں دستیاب مائٹراکلپ تھیرپی سے مستفیض ہوں گے۔“

      سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں کنسلٹنٹ، کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر نہار مہتہ نے کہا: ”مائٹرل والؤ کے رساؤ سے متاثر کئی مریضوں کو سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے بار بار اسپتال میں بھرتی ہونا پڑتا تھا، لیکن اب ان کا علاج اس تھیرپی سے کیا جاسکتا ہے اور اس میں اوپن ہارٹ سرجری کا خطرہ بھی نہیں ہے۔“

      سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر ترنگ گیان چندانی نے کہا: ہم مریضوں کو عالمی سطحی خدمات، انفرا اسٹرکچر اور کلینکل مدد دینے میں سب سے آگے ہیں۔ بہتر دیکھ بھال، نگہداشت اور پوری لگن اور محنت کے ساتھ ہم اپنے سبھی مریضوں کا خیال رکھتے ہیں۔“

      سر ایچ ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں ممبئی کی پہلی مائٹرا کلپ پروسیجر کو انجام دینے والی ٹیم بہت سے ہارٹ اسپیشلسٹوں کو ملا کر بنی تھی۔ اس میں شامل تھے۔ ڈاکٹر نہار مہتہ، ڈاکٹر مولک پاریکھ، ڈاکٹر اے بی مہتہ اور ڈاکٹر ایس آر ہانڈا۔ اس کے علاوہ انیستھٹسٹ ڈاکٹر ہارویسپ پنتھکی اور ڈاکٹر کرتیکا شرما بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ یہ عمل ڈاکٹر مولک پاریکھ، کنسلٹنٹ کارڈیولوجسٹ، سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال اورڈاکٹر نہار مہتہ، کنسلٹنٹ کارڈیولوجسٹ، سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن ہاسپٹل کے ذریعہ کیا گیا۔

      سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں مغربی ہند کا پہلا مائیٹرا کلپ پروسیجر کیا گیا، جن دو مریضوں پر یہ پروسیجر کیا گیا، انہیں 48 گھنٹوں کے اندر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔
      سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں مغربی ہند کا پہلا مائیٹرا کلپ پروسیجر کیا گیا، جن دو مریضوں پر یہ پروسیجر کیا گیا، انہیں 48 گھنٹوں کے اندر اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔


      مائیٹرا کلپ ایک نیا اور انقلابی ٹریٹمنٹ ہے، جس میں اوپن ہارٹ سرجری کے بغیر ہی لیک ہوئے مائٹرل والؤ کی مرمت کی جاتی ہے۔ یہ ایک انتہائی خاص اور جدید طریقہ علاج ہے، جس میں مائٹرل والؤ کے دو لیف لیٹس کو اس جگہ پر کلپ کیا جاتا ہے، جہاں سے وہ لیک ہو رہا ہے۔ ہارٹ کی رکاوٹ، ہارٹ والؤ کے پھیلاؤ، والؤ لیف لیٹ پرولیپس وغیرہ جیسی مختلف وجوہات سے مائٹرل والؤ لیک ہوسکتا ہے۔ ان میں سے بیشتر معاملوں میں مائٹرا کلپ سے علاج ممکن ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ مغربی دنیا میں اس ڈیوائس کا استعمال وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے، لیکن ہندوستان میں یہ پچھلے سال ہی آیا ہے اور اب سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں دستیاب ہے۔ اس پروسیجرکے خاص فائدے ہیں۔ والؤ ریگ گریٹشن میں کمی، زندگی کے معیاد میں سدھار، سانس پھولنے اور اسپتال میں بھرتی ہونے کے امکان کا کم ہونا، دل کے سائز میں معقول کمی اور جوکھم بھری اوپن ہارٹ سرجری سے بچاؤ۔

      مسٹر سدھیر مہتہ(78) کو چندماہ قبل ہارٹ بیٹ میں رکاوٹ اور سینے میں انفیکشن کی وجہ سے آئی سی یو میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ جانچ میں ان کے مائٹرل والو کے سنگین رساؤ کا پتہ چلا۔ سب سے پہلے ان کے انفیکشن پر قابو پایا گیا۔ اس کے بعد 23اگست 2021 کو ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال میں انہیں مائٹرا کلپ میڈیکل ٹریٹمنٹ دیا گیا۔ پروسیجر والے دن ہی وہ ٹھیک محسوس کرنے لگے اور 48 گھنٹوں کے اندر انہیں چھٹی دے دی گئی۔

      مسٹر رمیش راڈیا(80) پیروں میں سوجن، بے قاعدہ دھڑکن اور سانس پھولنے سے متاثر تھے۔ جانچ میں انہیں سنگین مائٹرل ریگ گریٹیشن کے ساتھ مائٹرل والؤ پرولیپس کا پتہ چلا۔ 24 اگست 2021 کو مائٹراکلپ پروسیجر سے ان کا علاج کیا گیا اور 48 گھنٹوں کے اندر انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔ خیال رہے کہ سر ایچ این ریلائنس فاونڈیشن اسپتال 345 بستر والا ملٹی اسپیشیلٹی ٹیریٹئری کیئر اسپتال ہے، جو جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل اور این اے بی ایچ کے ذریعہ منظور شدہ ہے۔ یہ ایک تکنیکی طور سے اپ گریڈیڈ اور بین الاقوامی معیارکا حامل ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: