உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EVM سے چھیڑچھاڑ کا پہلا قصہ: جب 123 ووٹوں سے ہارے امیدوار نے سپریم کورٹ کا کھٹکھٹایا تھا دروازہ اور بدل گئی تھی پوری تصویر

    EVM کی شروعات سے ہی تنازعات کی بھی ہوئی تھی شروعات۔

    EVM کی شروعات سے ہی تنازعات کی بھی ہوئی تھی شروعات۔

    سپریم کورٹ کے 1984 میں آئے حکم کے عبد الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے استعمال پر روک لگادی تھی۔ حالانکہ بعد میں ای وی ایم کو قانونی بنانے کے لئے ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور 1988 سے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں اس کا استعمال کیا جانے لگا۔

    • Share this:
      انتخابات چاہیں اسمبلی کے ہوں یا پھر لوک سبھا کے، نتائج والے دن سے ہی ای وی ایم (EVM) پر بحث شروع ہوجاتی ہے۔ کبھی ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگتا ہے تو کبھی ہار کے لئے ای وی ایم کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن (Election Commission of India) کے مطابق، ہندوستان میں پہلی مرتبہ ای وی ایم (Electronic Voting Machine) کا استعمال کیرل میں مئی، 1982 میں ہوئے اسمبلی الیکشن (Assembly election) میں کیا گیا تھا۔ کیرل کی پراوور اسمبلی سیٹ کے 50 ووٹنگ سینٹرس میں ووٹنگ کے لئے جب اسے رکھا گیا تو لوگوں درمیان یہ موضوع بحث بن گیا تھا۔ لوگوں کے درمیان اس کی بحث طویل عرصے تک رہی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہار کے بعد امدیوار کے ای وی ایم پر چھیڑ چھاڑ کا الزام لگانے کا طریقہ سالوں سے چلا آرہا ہے۔
      کیرالہ اسمبلی انتخابات میں ای وی ایم کے آغاز سے پہلے ہی تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ یہ تنازع کب، کیوں اور کیسے پیدا ہوا، عدالت پہنچنے کے بعد اس معاملے میں کیا فیصلہ آیا، جانیے مکمل کہانی…

      123 ووٹوں کا آیا فرق اور کانگریس نے ای وی ایم پر اٹھائےسوال
      دا ہندو کی رپورٹ کے مطابق، 19 مئی، 1982 کو پروور اسمبلی میں انتخابات منعقد کیے گئے۔ بڑا مقابلہ سیاسی جماعت سی پی آئی (CPI) کے امیدوار سیون پلئی اور کانگریس کے سابق اسمبلی صدر اے سی جوز کے درمیان تھا۔ الیکشن کے دن پروور اسمبلی حلقے کے 84 میں سے 50 بوتھوں پر ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کرائی گئی۔ الیکٹرانک مشین ہونے کی وجہ سے بیلٹ پیپر کے مقابلے ان بوتھوں پر رائے دہی کم وقت میں ہی مکمل ہوگئی ہے۔

      اب باری تھی ووٹوں کی گنتی کی۔ بیلٹ پیپر کے مقابلے جہاں پر ای وی ایم سے الیکشن ہوئے تھے وہاں ووٹوں کی گنتی بھی بہت جلد پوری ہوگئی۔ سی پی کے آئی سیون پلئی نے کانگریس کے اے سی جوز کو ہرا دیا۔ پلئی کو 30,450 ووٹ ملے تھے جب کہ جوز کو 30,327۔ فرق بہت کم تھا۔ اس کے باوجود کانگریس نے ای وی پر سوال اٹھائے۔

      ہائی کورٹ پہنچا کیس
      ای وی ایم پر سوال اٹھانے کے بعد جوز نے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی جس میں کہا، بنا پارلیمنٹ کی اجازت کے الیکشن کمیشن نے انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال کیا۔ حالانکہ عدالت نے جوز کی درخواست مسترد کردی، پر وہ رُکے نہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں لے کر گئے۔ کوشش رنگ لائی اور سپریم وکرٹ نے پروور اسمبلی کے اُن 50 بوتھوں پر بیلٹ پیپر کے ذریعے دوبارہ رائے دہی کرانے کا حکم دیا۔ اتنا ہی نہیں، دوبارہ وہئے الیکشن میں جوز 2 ہزار ووٹوں سے جیت بھی گئے۔

      سپریم کورٹ کے 1984 میں آئے حکم کے عبد الیکشن کمیشن نے ای وی ایم کے استعمال پر روک لگادی تھی۔ حالانکہ بعد میں ای وی ایم کو قانونی بنانے کے لئے ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور 1988 سے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں اس کا استعمال کیا جانے لگا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: