உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی میں پہلی بار ہاتھ کی پیوند کاری (Hand Donation)کاآپریشن،KEMاسپتال میں علاج جاری

    سنہ 2016 کے بعد سے پیوند کاری کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی رہی لیکن کبھی مناسب عطیہ دہندہ (donor) نہیں ملا۔ زونل ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (زیڈ ٹی سی سی) نے پانچ افراد کو ہاتھ کی پیوند کاری کے لیے ایک پیچیدہ آپریشن کے لیے ویٹ لسٹ کیا تھا

    سنہ 2016 کے بعد سے پیوند کاری کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی رہی لیکن کبھی مناسب عطیہ دہندہ (donor) نہیں ملا۔ زونل ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (زیڈ ٹی سی سی) نے پانچ افراد کو ہاتھ کی پیوند کاری کے لیے ایک پیچیدہ آپریشن کے لیے ویٹ لسٹ کیا تھا

    سنہ 2016 کے بعد سے پیوند کاری کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی رہی لیکن کبھی مناسب عطیہ دہندہ (donor) نہیں ملا۔ زونل ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (زیڈ ٹی سی سی) نے پانچ افراد کو ہاتھ کی پیوند کاری کے لیے ایک پیچیدہ آپریشن کے لیے ویٹ لسٹ کیا تھا

    • Share this:
      ممبئی میں بدھ کے روز پہلی بار ہاتھ کے عطیہ (hand donation ) کا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ کیونکہ ایک نوجوان دماغی موت (brain death) کا شکارہوگیاتھا۔ وہ اپنے تمام اعضا عطیہ کرنے پر رضامند ہو گیا۔ اس کے افراد خاندان نے بھی بخوشی اس کی بات کو مان لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شخص کی وجہ سے پانچ جانیں بچائی گئی۔ یوں ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال میں پہلی بار ہاتھ کی پیوند کاری کا علاج جاری ہے۔

      سنہ 2016 کے بعد سے پیوند کاری کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی رہی لیکن کبھی مناسب عطیہ دہندہ (donor) نہیں ملا۔ زونل ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (زیڈ ٹی سی سی) نے پانچ افراد کو ہاتھ کی پیوند کاری کے لیے ایک پیچیدہ آپریشن کے لیے ویٹ لسٹ کیا تھا جس میں 18 سے 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں کیونکہ اس میں دو اہم شریانیں arteries، چھ رگیں veins، آٹھ اعصاب nerves، 12 کنڈرا tendons اور ہڈیاں bones شامل ہیں۔ تاحال سرجری جاری ہے۔

      کے ای ایم کے ڈین ڈاکٹر ہیمنت دیشمکھ (Dr Hemant Deshmukh) نے سرجری یا وصول کنندہ کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔ انھوں نے اس کے بارے میں کسی بھی طرح کے تبصرے کو جلد بازی سے تعبیر کیا ہے۔

      ہاتھ کے عطیہ اور ٹرانسپلانٹ کی کوشش تقریبا ایک سال بعد ہوئی جب ٹرین حادثے کا شکار مونیکا مور کا ممبئی میں پہلا ٹرانسپلانٹ ہوا، جو گلوبل ہسپتال میں عطیہ دہنددہ کے ہاتھوں سے چنئی سے روانہ ہوا۔ ممبئی کے 24 سالہ پرانا عطیہ پروگرام نے سینکڑوں گردوں ، پھیپھڑوں ، جگر اور دل کی پیوند کاری کی سہولت فراہم کی ہے ، لیکن یہ ہاتھ کا پہلا کامیاب عطیہ تھا۔ زیڈ ٹی سی سی کے صدر ڈاکٹر ایس متھور نے اسے اعضا کے عطیہ کے پروگرام میں ایک اہم چھلانگ قرار دیا جو کہ کئی برسوں کے بعد کیا گیا ہے۔ جس سے لوگوں میں شعور بیدار بھی ہوگا۔

      انھوں نے کہ ’’ہم نے کیڈور گردوں سے آغاز کیا۔ پھر لوگوں نے جگر کا عطیہ قبول کرنا شروع کیا۔ بعد میں لوگوں نے پھیپھڑوں اور دل کے عطیات کو قبول کیا۔ تو یہ برسوں کی کوششوں کے بعد ہوتا ہے‘‘۔

      شہر کا لاوارث عطیہ پروگرام جو وبائی مرض سے متاثر ہوا تھا آہستہ آہستہ صحت یاب ہونے کے آثار دکھا رہا ہے۔ ZTCC عہدیداروں نے بتایا کہ پچھلے ہفتے میں تین عطیات دیے گئے ہیں جنہوں نے عطیات کی تعداد کو 20 تک پہنچا دیا ہے۔
      اس معاملے میں عطیہ دینے والے کو برین ہیمرج ہوا تھا اور اسے کچھ دنوں کے بعد برین ڈیڈ قرار دیا گیا تھا۔ عطیہ دینے والے کے پھیپھڑوں کو حیدرآباد پہنچایا گیا، جبکہ پھیپھڑوں ، جگر اور گردوں کا استعمال شہر میں اختتامی مرحلے کے مریضوں کو بچانے کے لیے کیا گیا۔ ایک پرائیویٹ ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ اس شخص کی کارنیا اور جلد بھی عطیہ کی گئی ، جہاں اس شخص کو برین ڈیڈ قرار دیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: