پاکستان میں سیلابی صورتحال : اب ہندوستان کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے اٹھائے سوال

ستلج میں پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے پاکستان کے کئی گاؤوں میں سیلاب کا پانی گھس گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا یا پھر کسی محفوظ مقام پر پناہ لینی پڑی۔ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے بغیر کسی اطلاع کے اس ہفتہ کے شروع میں دریائےستلج میں 38 ہزار کیوسک پانی چھوڑ دیا جس سے اس کے درجنوں گاؤں پانی میں ڈوب گئے اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں

Aug 22, 2019 01:46 PM IST | Updated on: Aug 22, 2019 01:46 PM IST
پاکستان میں سیلابی صورتحال : اب ہندوستان کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے اٹھائے سوال

دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد کا منظر۔(تصویر:آئی اے ان ایس ٹویٹر)۔

جمنا میں پانی کی سطح میں کمی کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریا کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے بعد ٹوئٹ کرکے کہا’’اب آپ چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ فی الحال سیلاب کا خطرہ ٹل گیاہے اور جمنا کا پانی کچھ گھنٹوں سے مسلسل کم ہو رہا ہے۔ ہریانہ سے بھی اب کم پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ جمنا کی سطح 206.60 تک پہنچ گئی تھی۔ یہ اب 206.44 ہو گیا ہے۔ دو دن زبردست تناؤ رہا۔ رات دن ہم لوگ حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے‘‘۔ایک اورٹوئٹ میں وزیراعلیٰ نے کہا’’اس بات کا سب سے زیادہ اطمینان ہے کہ کسی جان کا نقصان نہیں ہوا. ان محکموں، افسروں اور ملازمین کو شکریہ جنہوں نے رات دن محنت کی۔ پانی مکمل طور کم ہو جانے کے بعد اب ہمیں سبھی لوگوں کو اپنے گھروں میں پہنچانا ہے‘‘۔اس درمیان کجریوال نے بدھ کو شمال مشرقی دہلی کے متاثرہ علاقے عثمان پور میں رہنے والے لوگوں سے ملاقات کی اور انہوں نے ریلیف کیمپوں کا جائزہ بھی لیا۔ جمنا ندی کی آبی سطح بڑھنے کے بعد پشتہ علاقے کے بہت سے گھر سیلاب کی زد میں آ گئے تھے۔

اس دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی مسلسل موسلا دھار بارش اور بادل پھٹنے کے سبب سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 386 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 22 دیگر لاپتہ ہیں۔ہریانہ کے هتھني كنڈ بیراج سے اتوار کو 8.28 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے دہلی میں سیلاب کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ بدھ کو اس کی آبی سطح 207 میٹر سے تجاوز کر جانے کا خدشہ ظاہر کی جا رہا تھا۔انتظامیہ نے کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے پختہ انتظامات کئے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سال 2013 میں 8.06 لاکھ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑا گیا تھا جس سے پانی کی سطح 207.32 میٹر تک پہنچ گیاگئی تھی۔انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور ان کے رہنے کے لئے بڑی تعداد میں خیموں کا انتظام کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کو نکال کر وہاں پہنچایا گیا تھا. جمنا کے نشیب میں رہنے والے کل 23860 لوگوں کو نکالا جانا تھا اور ان کے لئے 2120 خیموں کا انتظام کیا گیا ہے۔

Loading...

حکام نے کہا کہ بیاس ستلج لنک پروجیکٹ کے ذریعہ بیاس دریا سے ستلج دریا میں 8400 کیوسک کے بہاؤ کو مکمل طور پر روک دیا گیا۔ بھاكھڑا ڈیم کی آبی سطح 1681.33 فٹ تک پہنچ جانے کی وجہ ڈیم کی حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے بورڈ کو 16 اگست سے ’سپل وے ‘کے ذریعہ 538 كيومیك (19000 کیوسک) کنٹرولڈ پانی چھوڑنا پڑا جو 19 اگست کو شام4 بجے بڑھ کر 1160 كيومیك (41000 کیوسک) ہو گیا۔ یہ ٹربائن کے ذریعہ بجلی کی پیداوار کے لیے چھوڑے جانے والے پانی سے زائد تھا۔اگروال نے بتایا کہ بورڈ بھاكھڑا ڈیم ذخائر میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ اس کے مطابق ہی ڈیم سے چھوڑے جا رہے پانی کا جائزہ ہر گھنٹہ لیا جارہاہے۔

دریں اثنا دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے پاکستان کے کئی گاؤوں میں سیلاب کا پانی گھس گیا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا یا پھر کسی محفوظ مقام پر پناہ لینی پڑی۔ پاکستان نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان نے بغیر کسی اطلاع کے اس ہفتہ کے شروع میں دریائےستلج میں 38 ہزار کیوسک پانی چھوڑ دیا جس سے اس کے درجنوں گاؤں پانی میں ڈوب گئے اور بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔’جیو نیوز‘ کے مطابق بدھ کو 50 سے زائد گاؤں دریائے ستلج کے سیلابی پانی سے ڈوب ہو گئے۔ ان گاؤوںمیں قصور، چاچرن شریف، کوٹ متھان، چندہ سنگھ والہ، گاٹي كالانگیر، مستياكي اور بھيكھي ونڈ شامل ہیں۔سیلاب کی وجہ سے دریائےستلج کی زد میں آنے والی سینکڑوں ایکڑ زمین پر کھڑی فصل بھی تباہ ہو گئی ہے۔

 

سیلاب سے 1122 لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ پاکستان میں فوج کے عملہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے متعلقہ حکام نے مطلع کئے بغیر ہی دو لاکھ کیوسک پانی دریا میں چھوڑے جانے کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ستلج کے ارد گرد کے علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال کو لے کر پہلے ہی الرٹ جاری کیا تھا۔گاندا سنگھ والہ میں 37640 کیوسک کے ساتھ منگل کو آبی سطح 17.8 فٹ تھی۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان بریگیڈیئر مختار احمد کے مطابق بدھ کو آبی سطح ایک سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان تھا  

Loading...