دہلی میں سیلاب کا خطرہ، جمنا خطرے کے نشان سے اوپر، آئندہ 24 گھنٹے سنگین

ہریانہ کے هتھني كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریا کے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے سنگین رہیں گے۔

Aug 20, 2019 12:27 PM IST | Updated on: Aug 20, 2019 12:34 PM IST
دہلی میں سیلاب کا خطرہ، جمنا خطرے کے نشان سے اوپر، آئندہ 24 گھنٹے سنگین

دہلی میں سیلاب کا خطرہ، آئندہ 24 گھنٹے سنگین

ہریانہ کے هتھني كنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریا کے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے سنگین رہیں گے۔ اس دوران ہماچل پردیش ، پنجاب اور اتراکھنڈ سمیت پورے شمالی ہندوستان میں موسلا دھار بارش اور بادل پھٹنے کی وجہ سے سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کےواقعات میں 42 لوگوں کی موت کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں بارش، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 313 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 47 دیگر لاپتہ ہیں۔

ہریانہ کے هتھني كنڈ بیراج سے اتوار کو 8.28 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ اس پانی کو دہلی پہنچنے میں 36 سے 72 گھنٹے لگیں گے۔ اس طرح بدھ کی صبح جمنا کے پانی کی سطح کے اپنے زیادہ سے زیادہ سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ قومی دارالحکومت میں پیر کی رات آٹھ بجے تک جمنا میں پانی کی سطح 205.50 میٹر تھی اور آج جمنا کی سطح 207 میٹر تک جانے کی توقع ہے۔ ہماچل پردیش میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے جمنا ندی میں طغیانی ہے اور ہریانہ میں جمنا کے ساتھ متصل اضلاع کے دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

ضلع سونی پت کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر انشج سنگھ نے احتیاطاً منولي ٹونكي اور گڑھي اسعدپور گاؤں کو خالی کروا لیا ہے۔ وہ خود انتظامیہ اور پولیس افسران کے ساتھ منولي ٹونكي گاؤں میں کیمپنگ کررہے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں رہ رہے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا یا گیا ہے۔ دہلی حکومت کو اس کی اطلاع دی جا چکی ہے۔ ریاست کی کئی چھوٹی ندیاں اور نالوں میں طغیانی آئی ہوئی ہے۔

Loading...

ڈاکٹر سنگھ نے منولي ٹونكي گاؤں میں گاؤں والوں سے کہا کہ هتھني كنڈ بیراج سے زیادہ پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے گاؤں میں کسی بھی وقت زیادہ مقدار میں پانی داخل ہو سکتا ہے، لہذا پشتے کے اندر کے تمام دیہاتوں کو فوری طورپر خالی کروا لیا گیا ہے۔ هتھني كنڈ بیراج سے مجموعی طور پرآٹھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی چھوڑا گیا،جس سے يمنانگر، کرنال، پانی پت، سونی پت، فرید آباد اور دہلی کے کچھ علاقوں میں سیلاب کا خدشہ ہے۔

Loading...