உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سال 2014 کے بعد سے بدتر ہوتے گئے کشمیر کے حالات، ہر 2 دہشت گرد کی موت پر ہم نے کھویا ایک جوان

    image: PTI

    image: PTI

    سال 2014 کے بعد سے کشمیر میں کسی نہ کسی جگہ حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق، ان حملوں میں ہر 2 دہشت گردوں کی موت کے بدلے ہمارا ایک جوان شہید ہوا

    • Share this:
      سال 2014 میں جب مرکز میں مودی حکومت بنی تھی ، تو اس کے سامنے کشمیر میں امن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ حکومت نے اس جانب قدم بھی بڑھائے۔  ہندوستان نے پاکستان سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، بات چیت کی شروعات کرنے کی بھی کوششیں کی گئیں، لیکن پاکستان نے ان تمام منصوبوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا اور ایک کے بعد ایک دہشت گردانہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پوری طرح سے بات چیت ختم ہو گئی۔  اب پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر سے جو زخم دئے گئے ہیں، اس سے ملک غم و غصہ میں ہے۔ پلوامہ میں ہوئے تازہ خودکش حملے میں ہم نے اپنے 40  جوان کھو دئے۔

      دیکھا جائے تو سال 2014 کے بعد سے کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوئے ہیں۔ آئے دن یہاں کسی نہ کسی جگہ حملے ہوتے رہتے ہیں۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق، ان حملوں میں ہر 2 دہشت گردوں کی موت کے بدلے ہمارا ایک جوان شہید ہوا۔

      گزشتہ سال 8 جولائی 2016 میں تصادم کے دوران دہشت گرد برہان وانی کے مارے جانے کے بعد کشمیر وادی میں حالات خراب ہو گئے۔ نوجوان سڑک پر آچکے تھے۔ ہر روز لوگ مر رہے تھے، فوجی شہید ہو رہے تھے۔ بےشک مودی حکومت ایک- ایک قدم پھونک کر رکھ رہی ہے اور کشمیر میں معمول کی زندگی کو واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن یہ ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

      ساوتھ ایشیا ٹیرریزم پورٹ (ایس اے ٹی پی) پر موجود 2014 سے2019 تک کے ڈیٹا کے تجزیہ کے مطابق وادی کے حالات 2018 کے بعد پہلے سے مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال چھوٹے بڑے ملا کر کل 205 حملے ہوئے۔ تاہم 2017 میں تشدد کے کل 164، 2016 میں 112، 2015 میں 88 اور 2014 میں 90 معاملے سامنے آئے ہیں۔ وہیں 2019 کے دو مہینے میں اب تک 16 دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔

      نیوز 18 کا تجزیہ بھی یہی بتاتا ہے کہ تقریبا ہر تصادم کے دوران 2 دہشت گردوں کی موت پر ہمارا ایک جوان شہید ہوتا ہے۔ تاہم ہر 82 دہشت گردوں کی موت  پر 18 مقامی لوگوں کی بھی جانیں گئیں ہیں۔
      First published: