ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اردو کی تحفظ کے لئے ہندی ادیب آئے میدان میں، اردو داں طبقے نے کیا مایوس

ملک میں نئی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے اردو کے تحفظ کا جب سوال آیا تو محبان اردو کے بینر تلے سب سے پہلے ہندی کے ادیب جمع ہوئے اور اردو پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر اپنا احتجاج بلند کیا۔

  • Share this:
اردو کی تحفظ کے لئے ہندی ادیب آئے میدان میں، اردو داں طبقے نے کیا مایوس
اردو کی تحفظ کے لئے ہندی ادیب آئے میدان میں، اردو داں طبقے نے کیا مایوس

بھوپال: اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک  ایسی تہذیب کا نام ہے، جس سے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی نمائندگی ہوتی ہے۔ اس زبان کے فروغ میں بلا لحاظ قوم و ملت سبھی لوگوں نے اپنا خون جگر صرف کیا ہے، تب جاکر یہ زبان پروا چڑھی ہے۔ اور آج اردو کی دھوم نہ صرف ہندوستان میں بلکہ عالمی سطح پر ہے اور یہ فخر سے کہا جانے لگا ہے کہ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔ بلاشبہ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور پروان چڑھی، لیکن آج اسی اردو پر اسی کے وطن پرکاری ضرب بھی لگائی جارہی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اردو کے تحفظ  کا جب سوال آیا تو محبان اردو کے بینر تلے سب سے پہلے ہندی کے ادیب جمع ہوئے اور اردو پر حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر اپنا احتجاج بلند کیا۔


ممتاز ہندی ادیب رام پرکاش ترپاٹھی کہتے ہیں کہ اردو اور ہندی کے بیچ جسم اور روح کا رشتہ ہے اور دونوں کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ دونوں کی اپنی لسانی تکثیریت ہے اور دونوں کا اپنا رسم الخط ہے۔ دونوں کا حسن ان کی اپنی رسم الخط ہے۔ ہندی قومی زبان ہے یقیناً اس کا فروغ ہونا چاہئے، لیکن اردو کو مٹاکر دوسری زبانوں کا فروغ ہو، یہ منظور نہیں ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں ہندی، سنسکرت کی بات کی گئی ہے اور جب کوئی طالب علم تیسری زبان کا انتخاب کرے گا تو اس کے سامنے روزگار کی زبان انگریزی ہوگی۔ یہاں پر صرف اردو کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جنوبی ہند کی علاقائی زبانوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ حکومت یہ تو چاہتی ہےکہ لوگ ہندی اور سنسکرت پڑھیں، لیکن دوسری علاقائی زبانیں کیوں نہیں۔ جنوبی ہندوستان کے جو لوگ ہیں انہیں اپنی زبان بہت عزیز ہے وہ آپ کی زبان کو زبردستی کبھی قبول نہیں کریں گی۔ اس سے ٹکراؤ پیدا ہوگا اور یہ ٹکراؤ ملک کو بکھراؤ کی جانب لے جائے گا۔


قرارداد پاس کرکے صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھیجا گیا ہے اور ان سے اردو کو نئی تعلیمی پالیسی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے اگر یہ منظور نہیں ہوتا ہے تو سڑک سے پارلیمنٹ تک اردو کے حق کی لڑائی لڑی جائے گی۔
قرارداد پاس کرکے صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھیجا گیا ہے اور ان سے اردو کو نئی تعلیمی پالیسی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے اگر یہ منظور نہیں ہوتا ہے تو سڑک سے پارلیمنٹ تک اردو کے حق کی لڑائی لڑی جائے گی۔


ممتاز شاعر وجے تیواری کہتے ہیں کہ سگندھ لکھتا ہوں تو خوشبو بولتا ہے۔ میرا بیٹا بھی اردو بولتا ہے۔ اردو میں نہ صرف میں شاعری کرتا ہوں بلکہ اردو میرے دل کی زبان ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا امتیازی سلوک برداشت نہیں کی جا سکتی ہے۔ ابھی تو قرارداد پاس کرکے صدر جمہوریہ ہند، وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم کو بھیجا گیا  ہے اور ان سے اردو کو نئی تعلیمی پالیسی میں شامل کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے اگر یہ منظور نہیں ہوتا ہے تو سڑک سے پارلیمنٹ تک اردو کے حق کی لڑائی لڑی جائے گی۔
ہندی کے ممتاز ادیب شیلندر شیلی کہتے ہیں کہ حکومت کی نظر میں شاید اردو مسلمانوں کی زبان ہے، لیکن انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ اردو سے اگر ہندو ادیبوں کا نام باہر کردیا جائے تو یہ ایسی ہی بے جان ہو جائے گی، جیسے جسم سے روح کو الگ کرنے کے بعد جسم ہو جاتا ہے۔ اردو کے  فروغ میں سبھی قوموں کا برابر کا تعاون شامل ہے اور زبان کو لے کر ایسے تعصب کا مظاہرہ ٹھیک نہیں ہے۔ زبان کا رشتہ مذہب سے نہیں بلکہ اس کے بولنے والوں سے ہوتا ہے اور اس کے بولنے اور لکھنے والوں میں سبھی شامل ہیں۔ حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لے کر اردو کو بحال کرنا چاہئے تاکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا فروغ ہو سکے۔

پروگرام میں اردو کے ممتاز ادیبوں کو مدعو تو کیا گیا تھا، لیکن جیسا کہ پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے وہی ہوا۔ وعدہ تو سب نے کیا، لیکن سامنے وہی لوگ آئے جو صرف اردو سے محبت کرتے ہیں۔
پروگرام میں اردو کے ممتاز ادیبوں کو مدعو تو کیا گیا تھا، لیکن جیسا کہ پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے وہی ہوا۔ وعدہ تو سب نے کیا، لیکن سامنے وہی لوگ آئے جو صرف اردو سے محبت کرتے ہیں۔


ممتاز ادیب ڈاکٹر علی عباس امید کہتےہیں کہ ہماری خاموشی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اردو والے بندکمروں میں تو بہت اچھی بات کرتے ہیں، لیکن میدان  میں کھل کر سامنے نہیں آتے ہیں۔ آج بھی اردو کی بقا کے لئے وہ لوگ سامنے آئے ہیں، جو اردو سے محبت کرتے ہیں ہمیں ان سے سبق لینا چاہئے اور حکومت کو بھی اردو کو بحال کرکے اپنی وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پروگرام کے منتظم جاوید بیگ کہتے ہیں کہ جس طرح سے اردو کے فروغ میں سبھی قوموں کا تعاون شامل ہے، اسی طرح اردو کو اس کا حق دلوانے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ پروگرام میں اردو کے ممتاز ادیبوں کو مدعو تو کیا گیا تھا، لیکن جیسا کہ پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے وہی ہوا۔ وعدہ تو سب نے کیا، لیکن سامنے وہی لوگ آئے جو صرف اردو سے محبت کرتے ہیں، جو اردو سے کھاتے ہیں کماتے ہیں وہ لوگ دامن ہی بچاتے رہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 21, 2020 10:50 PM IST