اپنا ضلع منتخب کریں۔

    روس سے تیل خریدنے کے مسئلہ پر وزیرخارجہ جئے شنکر کی دوٹوک، کہا-ہندوستانی عوام کا مفاد اولین ترجیح

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر

    جئے شنکر کے مطابق، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی دوسرے ملکوں کی غلطیوں کا خمیازہ کھاد، ایندھن کی قیمتوں کو لے کر اپنے ملک کی عوام کو نہیں بھگتنے دیں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      روس سے تیل خریدنے کو لے کر ہندوستان نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا ہے کہ اس بارے میں وہ کوئی بھی فیصلہ ہندوستانی عوام کے مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کرے گا۔ بدھ کو راجیہ سبھا میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بیان دیتے ہوئے وزیرخارجہ ایس جئے شنکر نے کہا کہ ایندھن خریدنے کی بات ہو، چاہے فرٹیلائزر خریدنے کی بات ہو، اس میں ہندوستانی عوام کو سب سے پہلی ترجیح مانتے ہوئے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرے گی۔

      اپنے ملک کی عوام پر نہیں پڑنے دیں گے دوسرے ممالک کی غلطیوں کا خمیازہ
      جئے شنکر کے مطابق، یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کسی دوسرے ملکوں کی غلطیوں کا خمیازہ کھاد، ایندھن کی قیمتوں کو لے کر اپنے ملک کی عوام کو نہیں بھگتنے دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرخارجہ نے چین کے ساتھ رشتوں کو غیر معمولی بتاتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ، ہمارا موقف واضح ہے کہ چین من مانے طریقے سے ایل اے سی کو نہیں بدل سکتا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سرحد تنازع کو لے کر احتجاج جاری، کرناٹک نے مہاراشٹر کیلئے بس خدمات روکیں

      یہ بھی پڑھیں:
      متاثرہ اجین کےلوگوں کی جمعیت علما کےذمہ داران سےملاقات، آشیانہ بچانے کا حکومت سےکیا مطالبہ

      بازار پر انحصار کرتا ہے بہت کچھ
      روس سے پیدا ہونے والے خام تیل کی قیمت پر جی سیون ممالک کی طرف سے زیادہ سے زیادہ حد طئے کرنے کے بارے میں جئے شنکر نے کہا، اس کا ہندوستان پر کیا اثر ہوگا، یہ ابھی صاف نہیں ہے۔ حکومت پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستان کی اہم تشویش اس سے پاور کی دستیابی اور اس کی قیمتوں کو لے کر ہے۔ حکومت اپنی کمپنیوں کو روس سے تیل خریدنے کے لیے نہیں کہتی ہے بلکہ انہیں جہاں سے بھی سب سے سستی قیمت پر تیل ملے وہاں سے خریدنے کو کہتی ہے۔ اب یہ بہت کچھ بازار پر منحصر ہے۔ ہم صرف ایک ملک سے تیل نہیں خریدتے بلکہ کئی ممالک سے خریدتے ہیں، لیکن سمجھداری اسی میں ہے کہاں سے سب سے اچھی قیمت ملے وہاں سے خریدا جائے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: