ہوم » نیوز » No Category

پٹنہ : اردو کے خادم کہے جانے والےبہار کے سابق وزیرڈاکٹرعبدالغفور کا انتقال ، کل ہوگی تدفین

بہار کے سابق اقلیتی فلاح کے وزیر ڈاکٹر عبدالغفور کا آج صبح دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔وہ قریب دو مہینہ سے بیمار تھے۔

  • Share this:
پٹنہ : اردو کے خادم کہے جانے والےبہار کے سابق وزیرڈاکٹرعبدالغفور کا انتقال ، کل ہوگی تدفین
بہار کے سابق اقلیتی فلاح کے وزیر ڈاکٹر عبدالغفور کا آج صبح دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔

عبدالغفور ایک بڑے سیاسی لیڈر تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنا تعارف ایک اردو کے خادم کے طور پر کرایا۔جب بھی کسی سے بات کرتے اردو زبان ضرور انکا موضوع بنتی تھی۔ سہرسہ ضلع کے مہشی سے چار بار ایم ایل اے رہے۔ آرجےڈی کے قدآور لیڈروں میں انکا شمار ہوتا ہے۔ اقلیتوں پر اچھی گرفت تھی۔ ادبی، سماجی اور علمی دنیاں کے لوگ عبدالغفور کوکافی احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ جےڈی یو اور آرجےڈی کے عظیم اتحاد میں بہار کے اقلیتی فلاح کے وزیر بنائےگئے۔ پاروتی سائنس کالیج مدھے پورا میں ٹیچر تھے۔


بہار کے سابق اقلیتی فلاح کے وزیر ڈاکٹر عبدالغفور کا آج صبح دہلی کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا ۔وہ قریب دو مہینہ سے بیمار تھے۔ عبدالغفور اپنے آپ کو ہمیشہ اردو کا خادم بتاتے تھے اور ابھی بھی وہ آرجےڈی کے ایم ایل اے تھے۔ انکے انتقال پر صوبہ کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو نے گہرے صدمہ کا اظہار کیا ہے۔


بہار کے سابق وزیر عبدالغفور کا انتقالبہار کے سابق وزیر عبدالغفور کا انتقال
بہار کے سابق وزیر عبدالغفور کا انتقال


عبدالغفور کے تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔61 سال کی عمر میں انکا انتقال ہوگیا۔ انکی تدفین سہرسہ کے بھیلاہی پنچایت میں واقع انکے آبائ گاؤں بہوہروا میں ہوگی۔ 29 جنوری کو دن کے 2بجے بہوہروا میں جنازہ کی نماز پڑھی جائےگی اور بہوہروا کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کیا جائےگا۔جےڈی یو لیڈر و سابق ایم ایل سی پروفیسر اسلم آزاد نے کہا کی عبدالغفور کی موت سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ بہار میں اردو کی بقا اور اسکی ترقی کی بات کرنے والا ایک بہتر قائد نہ رہا ۔

وہیں بہار سنّی وقف بورڈ کے چیئر مین و جےڈی یو لیڈر محمد ارشاد اللھ نے کہا کی عبدالغفور کے انتقال سے انکا ذاتی نقصان ہوا ہے وہ ایک سچے دوست اور ایک بہتر قائد تھے، ہمیشہ قوم و ملت کے درد میں ڈوبے رہتے تھے۔عبدالغفور نے اردو سے تعلیم حاصل کی، پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبہ اردو سے ایم اے کیا اور معروف شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز کی نگرانی میں قاضی عبدالستار کے نول نگاری پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ طالب علمی کے دور میں ہی جے پی مومینٹ کا حصہ بنے۔ سیاست میں سیکولرزم اور سوشلزم کی ہمیشہ حمایت کرتے رہے۔ مہشی سے اسمبلی انتخاب لڑے اور چار بار بہار اسمبلی کےرکن رہے۔ بہار حج کمیٹی کے چیئرمین کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ جب وہ حج کمیٹی کے چیرمین تھے تو لگاتار عازمین حج کی خدمت میں اپنے آپ کو مصروف رکھا۔

عظیم اتحاد کی حکومت میں اقلیتی فلاح کے وزیر بنائےگئے اس وقت اقلیتوں کا بجٹ محض 350 کروڑکے قریب ہوا کرتا تھا۔ عبدالغفور کے وقت میں اقلیتوں کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ 750 کروڑ کا بجٹ مختص کیاگیاتھا۔ عبدالغفور نے اردو اکیڈمی، انجمن ترقی اردو بہار، گورنمنٹ اردو لائبریری اور اقلیتی اسکولوں کے فروغ کے لئے کام کیا ساتھ ہی وقف املاک کی حفاظت کے تعلق سے بیحد سنجیدہ تھے۔ حالانکہ انکو زیادہ وقت نہیں ملا۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے آرجےڈی سے اپنا اتحاد توڑ لیا اور صوبہ میں این ڈی اے کی حکومت بن گئی۔ ایسے میں عبدالغفور کے منصوبوں کو پوری طرح سے زمین پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔عبدالغفور کو اقلیتی تنظیموں سے خاص لگاؤ تھا وہ خود امارت شرعیہ کے مجلس شوریٰ کے رکن تھے اور ہر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ عبدالغفور نے مسلمانوں، دلتوں، کمزوروں اور پیچھڑوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی اور آخری وقت تک غریب عوام کو برابری کا حق دلانے کی آواز اٹھاتے رہے۔ عبدالغفور کاایک مہذیب اور دین دار لوگوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ سیاسی لیڈروں کے مطابق سیاست کی دنیاں میں رہتے ہوئے بھی عبدالغفور نے ادب و تہذیب کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔
First published: Jan 28, 2020 04:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading