உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بابری مسجد- رام جنم بھومی کے فیصلے کی بنیاد مذہب نہیں، بلکہ قانون تھا: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی

    بابری مسجد- رام جنم بھومی کے فیصلے کی بنیاد مذہب نہیں، بلکہ قانون تھا: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی

    بابری مسجد- رام جنم بھومی کے فیصلے کی بنیاد مذہب نہیں، بلکہ قانون تھا: سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی

    Ram Janmabhoomi Verdict: رام جنم بھومی - بابری مسجد کا فیصلہ سنا کر سرخیوں میں آئے اور موجودہ وقت میں راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رنجن گوگوئی نے یہ بھی کہا کہ رام جنم بھومی کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

    • Share this:
      وارانسی: ایک جسٹس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ اس کی کوئی زبان نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ذات برادری ہوتی ہے۔ رام جنم بھومی کا فیصلہ رنجن گوگوئی کا نہیں، بلکہ سپریم کورٹ آف انڈیا کا فیصلہ تھا۔ یہ باتیں ہندوستان کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے وارانسی میں کہیں۔ وہ وارانسی کے کیدار گھاٹ واقع کرپاتری دھام میں منعقد سنواد پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شامل ہوئے تھے۔

      رام جنم بھومی - بابری مسجد کا فیصلہ سنا کر سرخیوں میں آئے اور موجودہ وقت میں راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رنجن گوگوئی نے یہ بھی کہا کہ رام جنم بھومی کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانون کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ یہاں پروگرام کا خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ ججوں نے بیٹھ کر4-3 ماہ کی سماعت کے بعد 900 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ لکھا۔ یہ فیصلہ ایک اوپینین ہے، اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں، قانون اور آئین کی بنیاد پر لکھا گیا۔

      جسٹس قوانین وضوابط کو دھیان میں رکھ کر فیصلہ سناتے ہیں

      راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ جج یا جسٹس ہزاروں کیس کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہمیشہ ایک کے حق میں تو دوسرے کے خلاف جاتا ہے۔ فیصلوں سے جج کا کوئی ذاتی لینا دینا نہیں ہوتا۔ جج ایسا کچھ بھی من میں رکھ کر اپنا کام نہیں کرتے ہیں۔ جسٹس قوانین وضوابط کو دھیان میں رکھ کر فیصلہ سناتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: