کشمیر: نظربند لیڈروں سے ملے اہل خانہ، عمرعبداللہ سے بھی ملیں ان کی بہن

جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ان کی بہن نے پیرکے روز ملاقات کی۔ کشمیرمیں ان کی نظربندی کا آج 29 واں دن تھا۔

Sep 03, 2019 12:09 AM IST | Updated on: Sep 03, 2019 12:10 AM IST
کشمیر: نظربند لیڈروں سے ملے اہل خانہ، عمرعبداللہ سے بھی ملیں ان کی بہن

عمرعبداللہ سے ہوئی ان کی بہن کی ملاقات

جموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سے ان کی بہن نے پیرکوملاقات کی۔ کشمیرمیں عمرعبداللہ کی نظربندی کا آج 29 واں دن تھا جب ان کے کسی رشتہ دارنے ان سے ملاقات کی۔ یہ اطلاع افسران نے دی اوربتایا کہ کچھ نظربند لیڈروں کواب اس کی اجازت دی جارہی ہے کہ ان کے اہل خانہ کے ارکان ان سے ملاقات کرسکتے ہیں۔ افسران نے بتایا کہ عمرعبداللہ کی بہن صفیہ نے اپنے بھائی سے پانچ اگست سے دوسری بارملاقات کی۔ پانچ اگست کوہی جموں وکشمیرکا خصوصی درجہ ختم کیا گیا تھا۔ عمرعبداللہ کے والد اورجموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بھی نظربند ہیں۔ افسران نے بتایا کہ عمرعبداللہ کے قریبی رشتہ ثریہ مٹونے بھی ان سے ملاقات کی۔

 لیڈروں کے رشتہ کوملی یہ اجازت

Loading...

افسران نے کہا کہ ایسے میں جب مختلف لیڈرابھی بھی نظربند ہیں، جموں وکشمیرکے تین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی کے ساتھ ہی دیگرلیڈروں کو اس کی اجازت دی گئی ہے کہ ان کے رشتے دارجیل ضوابط کے تحت ان سے مختصرملاقات کرسکتے ہیں۔

جموں وکشمیرکے تین بارکے وزیراعلیٰ رہے فاروق عبداللہ کو ان کے گپکرروڈ واقع رہائش گاہ میں نظربند کیا گیا ہے جبکہ ان کے بیٹے عمرعبداللہ کومشکل سے 500 میٹردورایک سرکاری گیسٹ ہاؤس ہری نواس میں نظربند کیا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی کوگورنرہاؤس کے پاس چشم شاہی کے پاس نظربند کیا گیا ہے۔ 28 اگست کو پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی ماں اوربہن نے ان سے ملاقات کی تھی۔

Loading...