ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے کہا- چین کے ساتھ سمجھوتہ، ملک کی سالمیت سے کھلواڑ

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر امن کے لئے چین کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس سے ملک کی سرزمین چین کے قبضے میں گئی ہے اور اس سے ہمارے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

  • Share this:
سابق وزیردفاع اے کے انٹونی  نے کہا- چین کے ساتھ سمجھوتہ، ملک کی سالمیت سے کھلواڑ
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر امن کے لئے چین کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس سے ملک کی سرزمین چین کے قبضے میں گئی ہے اور اس سے ہمارے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر امن کے لئے چین کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس سے ملک کی سرزمین چین کے قبضے میں گئی ہے اور اس سے ہمارے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اے کے انٹونی نے اتوارکے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ سمجھوتے میں ہندوستان کی سرحد چین کو دی گئی ہے اور ملک کی سالمیت کے لئے اس سے بڑا کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا ہے۔


کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر امن کے لئے چین کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس سے ملک کی سرزمین چین کے قبضے میں گئی ہے اور اس سے ہمارے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیردفاع اے کے انٹونی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر امن کے لئے چین کے ساتھ جو سمجھوتہ ہوا ہے اس سے ملک کی سرزمین چین کے قبضے میں گئی ہے اور اس سے ہمارے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔


چین کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے تعلق سے انہوں نے حکومت سے کہا کہ اس نے فوج کی بہادری اور ہمت کو کم سمجھا گیا ہے۔ پورا ملک امن چاہتا ہے لیکن ملک کی سرزمین چین کے حوالے کرنے کی قیمت پر امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ مودی حکومت نے وادی گلوان اور پینگونگ تسو جھیل علاقے میں اپنی سررزمین کو چین کے حوالے کرکے قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت سے کھیلواڑ کیا ہے اس لئے حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے اس گلوان ویلی سے جہاں ہمارے فوجیوں نے سرزمین کی حفاظت کے لئے شہادت دی وہاں پر پٹرولنگ پوائنٹ 14 سے پیچھے اپنی فوج کو کیوں ہٹایا گیا ہے۔ حکومت یہ بھی بتائے کہ ہندوستانی سرحد میں بفرزون کیوں بنایا ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 14, 2021 10:00 PM IST