உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہان  نے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی معاملہ میں پولیس کی کارروائی پراٹھائے سوال، لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھا

    دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہان  نے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی معاملہ میں پولیس کی کارروائی پراٹھائے سوال، لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھا

    دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہان  نے مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی معاملہ میں پولیس کی کارروائی پراٹھائے سوال، لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھا

    دہلی کے جنتر منتر میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی جانب سے ایک خط لکھ کر دہلی پولیس کے ذریعے کی جارہی کارروائی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط میں دہلی میں ہونے والے واقعات اور پولیس کی عدم کارروائی کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر میں دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین کمال فاروقی اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی جانب سے ایک خط لکھ کر دہلی پولیس کے ذریعے کی جارہی کارروائی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کو بھیجے گئے خط میں دہلی میں ہونے والے واقعات اور پولیس کی عدم کارروائی کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ خط میں جنتر منتر نعرے کیس، دہلی میں حج ہاؤس کیس میں کارروائی کے ساتھ ساتھ اسی طرح آدرش نگر ایس ایچ او کی معطلی، ایک ہندو تنظیم کی طرف سے روہنی میں درگاہ مدد علی شاہ کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ ساتھ ایک ٹی وی چینل پر جنتر منتر نعرے کیس میں پنکی چودھری نامی نوجوان کے ذریعے نعرے بازی میں خود کے ملوث ہونے اور قبول کا ذکر ہے۔

    سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن کمال فاروقی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں پولیس کی جانب سے دہلی میں ہونے والے واقعات پر خاموشی اور نرمی برتنے جیسے موضوعات پرخط لکھا ہے۔
    سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن کمال فاروقی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں پولیس کی جانب سے دہلی میں ہونے والے واقعات پر خاموشی اور نرمی برتنے جیسے موضوعات پرخط لکھا ہے۔


    اس پورے معاملے پر نیوز 18 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن کمال فاروقی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں پولیس کی جانب سے دہلی میں ہونے والے واقعات پر خاموشی اور نرمی برتنے جیسے موضوعات پرخط لکھا ہے۔ کمال فاروقی نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنرکو خط لکھا گیا ہے اوربتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس طرح کی کارروائی نہیں کی جیسی کی جانی چاہئے تھی، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں پولیس کو ہدایت دیں۔ فاروقی نے کہا کہ اب تک گرفتار لوگوں کے خلاف یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کا استعمال کیا جانا چاہئے تھا۔ کچھ لوگ پکڑے گئے، لیکن اتنا کمزور کیس بنایا گیا کہ انہیں ضمانت مل گئی۔ کمال فاروقی نے سوال کیا کہ کیا پولیس ایسی دستاویزات اور اس طرح کے شواہد کا انتظار کر رہی ہے، جس میں ایک مسلمان یا کسی اور کمزور طبقے کے فرد کو قتل کیا جا رہا ہو۔

    ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ہمیں لیفٹیننٹ گورنر سے بہت زیادہ کوئی امید نہیں ہے، لیکن وہ دہلی کے حقیقی حکمران ہیں، اسی لئے ہم نے خط لکھا ہے۔
    ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ہمیں لیفٹیننٹ گورنر سے بہت زیادہ کوئی امید نہیں ہے، لیکن وہ دہلی کے حقیقی حکمران ہیں، اسی لئے ہم نے خط لکھا ہے۔


    دوسری طرف ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن سے اس کو اجازت لینی پڑتی ہے، سوال یہ ہے کہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے، پولیس فورس جنترمنترپر ہیں، لیکن وہ تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش نہیں کئےگئے۔ پہلے کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور جب ویڈیو وائرل ہوا تو پھر ایکشن لیا گیا۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ہمیں لیفٹیننٹ گورنر سے بہت زیادہ  کوئی امید نہیں ہے، لیکن وہ دہلی کے حقیقی حکمران ہیں، اسی لئے ہم نے خط لکھا ہے۔ ڈاکٹر خان نے کہا کہ جس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ دہلی کا ماحول اسی طرح خراب کیا جا رہا ہے، جیسا کہ یہ واقعہ فروری 2020 میں ہوا۔ اسی طرح کا کچھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: