ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد نے ظاہر کیا قتل کا خدشہ، عدالت سے ملی جزوی راحت

سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد پر فساد کرانے کا معاملے میں ایم پی ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے انہیں جزوی راحت دے دی ہے۔ اب عتیق احمد کو 13 نومبر کو الہ آباد کی خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہونا پڑے گا۔ عدالت نے عتیق احمد کی ڈسچارج درخواست منظور کرلی۔

  • Share this:
سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد نے ظاہر کیا قتل کا خدشہ، عدالت سے ملی جزوی راحت
سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد نے ظاہر کیا قتل کا خدشہ، عدالت سے ملی جزوی راحت

الہ آباد: سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد پر فساد کرانے کا معاملے میں ایم پی ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے انہیں جزوی راحت دے دی ہے۔  اب عتیق احمد کو 13 نومبر کو الہ آباد کی خصوصی عدالت میں پیش نہیں ہونا پڑے گا۔ عدالت نے عتیق احمد کی ڈسچارج درخواست منظور کرلی۔ 13 نومبر تک عتیق احمد کو کورٹ میں  پیشی سے چھوٹ مل گئی ہے۔ اس سے قبل سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد نے پیشی کے دوران اپنی جان کو خطرہ بتایا تھا۔ عرضی میں عتیق احمد نے کہا تھا کہ پولیس ان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عتیق احمد اس وقت گجرات کے احمد آباد سینٹرل جیل میں بند ہیں۔


اس سے قبل خبر آئی تھی کہ سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد کے خلاف یوگی حکومت کی انہدامی کارروائی کے بعد اب ان پرقانون کا شکنجہ بھی کستا جا رہا ہے۔ قتل اور فساد برپا کرنے کے ایک پرانے معاملے میں عتیق احمد کو ایم پی ۔ ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے ۱۳؍ نومبر کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت سے اپنی حاضری معاف کرانے کے لئے عتیق احمد نے عرضی داخل کی تھی۔


اترپردیش کی یوگی حکومت سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے خلاف سخت ہے اور ان کے خلاف حکومت کی کارروائی جاری ہے۔
اترپردیش کی یوگی حکومت سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے خلاف سخت ہے اور ان کے خلاف حکومت کی کارروائی جاری ہے۔


اپنی عرضی میں عتیق احمد نے عدالت سے کہا تھا کہ انہیں گجرات کی سابرمتی جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں سے الہ آباد  ۱۴۵۰؍کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ عتیق احمد کی طرف سے عرضی میں کہا گیا ہے کہ  طویل سفر کے دوران ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، لہٰذا ان کی پیشی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کرائی جائے۔ اس کے علاوہ عتیق احمد نے عرضی میں اپنی کئی بیماریوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ داخل عرضی میں عتیق احمد نے کہا ہے کہ اس سے  پہلے کئی معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ عدالت سے پیشی کا حکم حاصل کرکے پولیس نے ملزموں کا قتل کیا ہے۔ عتیق احمد نے دوران سفراپنے قتل کے خدشے کا اظہارکیا ہے۔ عتیق احمد کی طرف سے ایڈو کیٹ تارا چند گپتا، دیا شنکر مشرا، رادھے شیام پانڈے، نثار احمد اور خان صولت حنیف نے عدالت میں اپنی دلیلیں پیش کیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 29, 2020 02:33 AM IST