உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی فسادکی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ میں سابق فوجی افسران بھی ہوئے شامل

    دہلی فسادکی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ میں سابق فوجی افسران بھی ہوئے شامل

    دہلی فسادکی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ میں سابق فوجی افسران بھی ہوئے شامل

    گزشتہ دنوں ملک کے 72 نوکرشاہوں نے صدرجمہوریہ ہند رام ناتھ کووند خط بھیجا تھا اور اب دہلی کی 270 سے زائد معزز شخصیات کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دہلی میں ہوئے فساد کی آزادانہ جانچ اور تحقیقات کے مطالبات میں تیزی آتی جاتی جارہی ہے۔ گزشتہ دنوں ملک کے 72 نوکرشاہوں نے صدرجمہوریہ ہند رام ناتھ کووند خط بھیجا تھا اور اب دہلی کی 270 سے زائد معزز شخصیات کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔ خاص بات یہ ہے کہ جانچ کی آواز اٹھانے والو ں میں سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں۔ سابق ایئر وائس مارشل آین آئی رزاقی اور اے وی ایس ایم مکند دوبے نے بھی اروند کیجریوال کو بھیجے گئے خط پر دستخط کئے ہیں۔ حالانکہ دوسرے دستخط کرنے والے افراد میں سابق انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سیاستداں برندا کرات کے علاوہ ہرش مندر، ہندو مذہبی رہنما سوامی اگنی ویش وغیر ہ شامل ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں واضح طورپرکہا گیا ہے کہ دہلی پولیس جس طرح سے تحقیقات کررہی ہے اور رپورٹ کر رہی ہے تو پورے طورپر جانبدارانہ، سیاست سے آلودہ ہے۔ اس لئے فوری طور پر ایک آزادانہ انکوائری کرائی جائے تاکہ دہلی کےلوگوں میں انصاف کو لےکر اعتماد بحالی ہو، جو افراد فساد کے گنہگار ہیں ان کو کیفر کردار تک پہونچایا جاسکے۔

    دہلی کی 270 سے زائد معزز شخصیات کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔
    دہلی کی 270 سے زائد معزز شخصیات کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔


    خط میں آزادانہ انکوائر ی کے لئے پانچ دلیلیں دی گئی ہیں۔ آزادنہ انکوائری کیوں ضروری ہے، بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن نے تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے، جس میں اس بات کی سفارش کی ہے کہ کسی جج کی سربراہی میں تحقیقات ہونا چاہئے اور ریاستی حکومت کو کمیشن کی رپورٹ کو قبول کرنا چاہئے۔ دہلی پولیس مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے جبکہ دہلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والوں میں وزیر داخلہ امت شاہ بھی شامل تھے۔ انھوں نے فرقہ وارانہ انداز میں انتخابی مہم چلائی۔ اس کے علاوہ کپل مشرا اور بی جے پی کے سیاسی رہنماﺅں یہاں تک مرکزی حکومت کے وزراء اور اراکین پارلیمنٹ نے اشتعال انگیزی کی۔ تاہم ان کے خلاف ایک ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی۔ بلکہ دہلی پولیس نے آفیشیل طورپر یہ وضاحت کی کہ ان بیانات میں کاروائی کرنے لائق کوئی بھی بیان نہیںہے۔ حالانکہ شہریت ترمیمی قانون کےخلاف احتجاج میں شامل ہونے والوں کے نام فساد کی چارج شیٹوں میں شامل ہیں۔ ایک دوسری دلیل دیتے ہوئےکہا گیا ہے کہ دہلی پولیس ہاتھ باندھے ہوئے ہے کیونکہ اس نے ایک سرکلر جاری کرکے ہندﺅوں کی گرفتاری سے احتراز کرنے کی افسران کی ہدایت دی کیونکہ ہندو لیڈران کے خلاف شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ حالانکہ خود دہلی کے اعداد وشمار یہ صاف کرتے ہیں کہ اقلیتی طبقے کا جان ومال کا زیادہ نقصان ہوا۔ اس لئے دہلی پولیس جانچ کے بجائے سیاسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔

    وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔ خاص بات یہ ہے کہ جانچ کی آواز اٹھانے والو ں میں سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں۔
    وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کو خط بھیجا گیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہلی حکومت کسی ریٹائرڈ جج سے دہلی کے فسادکی آزادانہ جانچ کرائے۔ خاص بات یہ ہے کہ جانچ کی آواز اٹھانے والو ں میں سابق فوجی افسران بھی شامل ہیں۔


    جانچ میں پولیس کو کلین چٹ

    اس کے علاوہ دہلی پولیس پر خود فساد اور تشدد میں شامل ہونے کے الزامات ہیں کئی ویڈیو عوام کے سامنے آچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق تشدد میں 100پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، بہت سے پولیس اہلکار ڈیوٹی اور فرض انجام نہ دینے، تشدد میں شامل ہونے کےکئی کیسوں میں ملزم ہیں، یہاں تک کہ ایک وائرل ویڈیو میں کچھ سیکورٹی اہلکار زبردستی قومی ترانہ گانے پر مجبورکر رہے ہیں اور پٹائی کی جارہی ہے۔ اس معاملے میں ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے پولیس کےخلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا اور نہ پولیس کے خلاف شواہد ہیں ۔پولیس خود ہی تین ایس آئی ٹی بناکر جانچ کررہی ہے اسلئے پولیس کے کردار کی جانچ ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ دہلی پولیس کی جانب کی جارہی تحقیقات میں ایک ناانصافی یہ ہے کہ دہلی فساد گرچہ فروری میں ہوا اور شہریت قانو ن کے خلاف تحریک اور احتجاجات دسمبر میں شروع ہوئے خاص طورپر جامعہ ملیہ اسلامیہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا لیکن جو افراد اس تحریک میں شامل ہوئے ان کو بھی دہلی فساد سے لنک کردیا گیا اور ان پر یواے پی اے لگا دیا گیا۔

    دہلی حکومت تحقیقاتی پینل تشکیل دینے کا اختیار

    خط میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ دہلی میں کافی زیادہ اختیارات مرکزی حکومت کو حاصل ہیں اور دہلی میں ایل جی سربراہ ہیں تاہم موجودہ دستوری نظم میں اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ دہلی حکومت ایک انکوائری پینل تشکیل دے سکتی ہے اس سے قبل کئی معاملو ں میں دہلی حکومت تحقیقات کراچکی ہے ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو دہلی میں جمہوری حقوق اور دستورکے تحفظ کی جانب بڑا قدم ہوگا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: