உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sonali Phogat:چار رکنی گوا پولیس کی ٹیم آج پہنچے گی حصار، ملزمین سے پوچھ تاچھ جاری

    بی جے پی لیڈر اور ٹک ٹاک اسٹار سونالی پھوگاٹ.

    بی جے پی لیڈر اور ٹک ٹاک اسٹار سونالی پھوگاٹ.

    Sonali Phogat: سونالی کی بیٹی یشودھرا نے بتایا کہ گوا جانے سے پہلے مجھے سدھیر نے بتایا تھا کہ سات دن کے لئے گوا جارہے ہیں، لیکن اب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ سدھیر سانگوان نے وہاں پر دو دن کے لئے ریزارٹ بُک کیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Goa | Mumbai | Delhi
    • Share this:
      Sonali Phogat:بی جے پی لیڈر سونالی پھوگاٹ کی موت کے معاملے میں گوا پولیس کی ایک ٹیم آج بدھ کو حصار پہنچنے کا امکان ہے۔ دیر رات تک ٹیم دلی پہنچے گی۔ وہاں سے حصار جانچ کے لئے نکلے گی۔ فی الحال ٹیم کس وقت پہنچے گی اس بارے میں ابھی گوا پولیس نے کوئی جانکاری نہیں دی ہے۔ گوا پولیس ملزمین سدھیر سانگوان، سوکھیندر، ہوتل ملک ایڈون، ڈرگس اسمگلر دتا پرساد اور رماکانت سے پوچھ تاچھ کررہی ہے۔

      گوا پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ پانچوں ملزمین سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔ گوا پولس کی تین ٹیمیں معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہی ہیں۔ چار ارکان کی ٹیم ہریانہ کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔ وہاں پہنچ کر گروگرام، روہتک اور حصار میں ٹیمیں سونالی سے متعلق معاملے کی تحقیقات کریں گی۔ سونالی کے بھائی رینکو کی جانب سے شکایت میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کی جائے گی۔ اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سدھیر اور سکھویندرا نے سونالی پھوگاٹ کو زبردستی ڈرگس پلائی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad: انفلوئنسر سید عبدہ کشف کو دوبارہ حراست میں لیا گیا، جانئے کیا ہے معاملہ

      یہ بھی پڑھیں:
      Eidgah Maidan Case: کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ، عیدگاہ گراونڈ پر ہی ہوگا گنیش اتسو

      سات دن کا کہہ کر دو دن کے لئے کیا تھا ریزارٹ بُک
      سونالی کی بیٹی یشودھرا نے بتایا کہ گوا جانے سے پہلے مجھے سدھیر نے بتایا تھا کہ سات دن کے لئے گوا جارہے ہیں، لیکن اب ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ سدھیر سانگوان نے وہاں پر دو دن کے لئے ریزارٹ بُک کیا تھا۔ اگر، وہاں پر دو دن کے لئے ریزارٹ بُک کیا گیا تھا تو مجھے سات دن کے لئے کیوں بتایا۔ سدھیر سانگوان نے سازش کے تحت میری ماں کا قتل کیا ہے۔ ملزمین کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: