உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی کے سبزی منڈی علاقے میں چار منزلہ عمارت منہدم، کئی لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ

    دہلی کے سبزی منڈی علاقے میں چار منزلہ عمارت منہدم، کئی لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ

    دہلی کے سبزی منڈی علاقے میں چار منزلہ عمارت منہدم، کئی لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ

    Delhi News: ملک کی راجدھانی دہلی کے سبزی منڈی علاقے (Sabzi Mandi Area) میں چار منزلہ عمارت منہدم (Four-Storey Building Collapses) ہونے سے ہنگامہ مچ گیا ہے۔ جبکہ اس حادثے میں کئی لوگوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی کے سبزی منڈی علاقے (Sabzi Mandi Area) میں چار منزلہ عمارت منہدم (Four-Storey Building Collapses) ہونے کی خبر ہے۔ جبکہ اس حادثے میں کئی لوگوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد دہلی پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق، راحت اور بچاو کا کام جاری ہے۔ وہیں اب تک ایک آدمی کو ملبے سے نکالا گیا ہے، جس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

      حادثہ کی وجہ سے آس پاس کے علاقے مں ہنگامہ مچ گیا ہے اور اس وقت موقع پر پولیس کے ساتھی کافی تعداد میں مقامی لوگ بھی موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس حادثے کی اطلاع میونسپل کارپوریشن کو بھی دی گئی ہے۔ پولیس نے کہا کہ اب تک ایک آدمی کو ریسکیو کیا گیا ہے، لیکن ملبے میں کئی لوگ دبے ہوسکتے ہیں۔ ہم آس پاس کے لوگوں سے اطلاعات جمع کر رہے ہیں۔

      بلڈنگ میں چل رہا تھا تعمیراتی کام

      دہلی پولیس کے مطابق، عمارت میں تعمیراتی کام چل رہا تھا۔ وہیں جس وقت حادثہ ہوا، اس وقت اندر کئی مزدور تھے۔ یہی نہیں، اس عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر کئی فیملی والے رہتے ہیں۔ جبکہ عمارت کی تنگ گلیوں کی وجہ سے فائر ڈپارٹمنٹ کی بڑی گاڑیوں کو لے جانے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو آپریشن فی الحال مینوئلی چلایا جا رہا ہے۔

      وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کیا اظہار افسوس

      وہیں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اس حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، دہلی کے سبزی منڈی علاقے میں عمارت منہدم ہونے کا حادثہ بے حد افسوسناک ہے۔ انتظامیہ راحت اور بچاو کے کاموں میں مصروف ہے۔ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ میں خود حالات پر نظر بنائے ہوئے ہوں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: