ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بڑی خبر: دہلی فساد متاثرین کی راحت رسانی میں دھاندلی اور بدعنوانی کا انکشاف

دہلی فساد کو لے کر ہو رہی جانچ پر سوال مسلسل اٹھتے رہے ہیں اور معاوضہ نہ ملنے کی شکایت بھی سامنے آتی رہی ہے، لیکن اب اس معاملے میں معاوضہ کو لے کر دھاندلی، جانبداری اور بدعنوانی اور منمانی کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سلسلے میں آج دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاح کمیٹی کی میٹنگ بھی ہوئی ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: دہلی فساد متاثرین کی راحت رسانی میں دھاندلی اور بدعنوانی کا انکشاف
دہلی فساد متاثرین کی راحت رسانی میں دھاندلی اور بدعنوانی کا انکشاف

نئی دہلی: دہلی فساد کو لے کر ہو رہی جانچ پر سوال مسلسل اٹھتے رہے ہیں اور معاوضہ نہ ملنے کی شکایت بھی سامنے آتی رہی ہے، لیکن اب اس معاملے میں معاوضہ کو لے کر دھاندلی، جانبداری اور بدعنوانی اور منمانی کا انکشاف ہوا ہے۔ دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاح کمیٹی میٹنگ کے دوران دہلی فساد متاثرین کو دیئے گئے معاوضے کے معاملے میں ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں، جن میں نقصان صرف 90 ہزار روپئے کا ہوا، لیکن معاوضہ 8 لاکھ روپئے دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ کئی معاملے ایسے ہیں، جن میں لاکھوں کا نقصان ہونے کے باوجود 30-25 ہزار روپئے دیا گیا۔ دراصل آج دہلی اسمبلی عصبیت کی فلاح کمیٹی کی میٹنگ ہوئی‌۔


میٹنگ میں شمال مشرقی دہلی کے تینوں ایس ڈی ایم، شاہدرہ کے ایس ڈی ایم، شاہدرہ اور نارتھ ایسٹ کے ضلع مجسٹریٹ، پرنسپل ہوم سکریٹری، ڈویزنل کمشنر محکمہ ریوینیو اور دیگر متعلقہ افسران کو طلب کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق میٹنگ کے دوران متاثرین کو ملنے والے معاوضہ کے سلسلہ میں بھی افسران سے معلومات طلب کی گئیں، جس میں کئی چونکانے والے حقائق سامنے آئے۔ متاثرین کے کیسوں کی باریکی سے چھان بین سے یہ روشنی میں آیا کہ متاثرین تک معاوضہ کی صحیح تقسیم نہیں ہو پائی ہے۔ کمیٹی کے سامنے پینل پرکئی ایسے کیس رکھے گئے، جن میں متاثرین کا نقصان 8/10 لاکھ کا ہوا ہے، لیکن انھیں معاوضہ کے نام پر25/30 ہزار روپئے دے دیئے گئے ہیں جبکہ ایک کیس ایسا بھی سامنے آیا، جس میں نقصان 90 ہزار کا ہے جبکہ معاوضہ 8 لاکھ دے دیا گیا۔ چیئرمین امانت اللہ خان نے اس سلسلہ میں افسران کو ایسے کیسوں کی باریکی سے تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔


دہلی فساد کو لے کر ہو رہی جانچ پر سوال مسلسل اٹھتے رہے ہیں اور معاوضہ نہ ملنے کی شکایت بھی سامنے آتی رہی ہے۔
دہلی فساد کو لے کر ہو رہی جانچ پر سوال مسلسل اٹھتے رہے ہیں اور معاوضہ نہ ملنے کی شکایت بھی سامنے آتی رہی ہے۔


فیضان پر تشدد کا ویڈیو میٹنگ میں چلایا گیا

اس کے علاوہ آج میٹنگ کے دوران افسران کے سامنے چیئرمین امانت اللہ خان کی ہدایت پر کئی ایسے ویڈیو چلائے گئے، جن میں فسادیوں کے نہ صرف چہرے صاف نظر آرہے ہیں بلکہ وہ اپنا اقبال جرم کرتے ہوئے بھی سنے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ویڈیو فیضان نامی شخص کا چلایا گیا جس میں پولیس والے فیضان کو نہ صرف بری طرح سے پیٹ رہے ہیں بلکہ ان کے چہرے بھی صاف نظر آرہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ بعد میں فیضان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ چیئرمین امانت اللہ خان نے ایسے واقعات کے بارے میں پرنسپل ہوم سکریٹری سے دریافت کیا کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟

میٹنگ کے دوران افسران کے سامنے چیئرمین امانت اللہ خان کی ہدایت پر کئی ایسے ویڈیو چلائے گئے، جن میں فسادیوں کے نہ صرف چہرے صاف نظر آرہے ہیں بلکہ وہ اپنا اقبال جرم کرتے ہوئے بھی سنے جاسکتے ہیں۔
میٹنگ کے دوران افسران کے سامنے چیئرمین امانت اللہ خان کی ہدایت پر کئی ایسے ویڈیو چلائے گئے، جن میں فسادیوں کے نہ صرف چہرے صاف نظر آرہے ہیں بلکہ وہ اپنا اقبال جرم کرتے ہوئے بھی سنے جاسکتے ہیں۔


کمیٹی کو صرف پانچ ایف آئی آر ملیں

اقلیتی فلاح کمیٹی کی جانب سے سے دہلی فساد کو لے کر درج کی گئی تمام ایف آئی آر کی کاپی طلب کی گئی تھی تاہم اب تک کمیٹی کو صرف پانچ ایف آئی آر کی کاپی موصول ہوئی ہیں۔ میٹنگ میں پرنسپل ہوم سیکریٹری سے دریافت کیا گیا کہ پولیس کمیٹی کو ایف آئی آر مہیا کیوں نہیں کرارہی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایف آئی آر پبلک ڈومین میں ہونی چاہییں پھر پولیس سپریم کورٹ کی حکم عدولی کیوں کر رہی ہے؟چیئرمین امانت اللہ خان نے اس سلسلہ میں ہوم سیکریٹری کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیس سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی جائے۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے سامنے ایسی پانچ ایف آر بھی پیش کی گئیں، جن کا مضمون ایک جیسا ہے اورپانچوں ایف آئی آر میں ایک ہی طرح کی کہانی بناکر پولیس نے مخصوص طبقہ کے افراد کے خلاف کیس بنادیا ہے۔ اس سلسلہ میں بھی افسران کو تحقیق کرنے اور پولیس سے وضاحت طلب کرنے کی ہدایت دی گئی۔

دہلی فساد متاثرین کو دیئے گئے معاوضے کے معاملے میں ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں، جن میں نقصان صرف 90 ہزار روپئے کا ہوا، لیکن معاوضہ 8 لاکھ روپئے دے دیا گیا۔
دہلی فساد متاثرین کو دیئے گئے معاوضے کے معاملے میں ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں، جن میں نقصان صرف 90 ہزار روپئے کا ہوا، لیکن معاوضہ 8 لاکھ روپئے دے دیا گیا۔


تین فساد متاثرین کی ایف آئی آر اب تک نہیں ہوئی درج

آج میٹنگ کے دوران کمیٹی کے سامنے تین ایسے فساد متاثرین کو پیش کیا گیا، جن کی پولیس نے آج تک ایف آئی آر نہیں کی، جن میں سے ایک ماں بیٹی ہیں جن کے گھر میں لوٹ کی واردات ہوگئی تھی مگر ان کی ایف آئی مختلف وجوہات بتاکر آج تک نہیں لکھی گئی اور ان کی ذہنی حالت بگڑتی جارہی ہے اور وہ خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی ماحول کو خراب کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور بےجا نعرہ بازی اور فقرہ کشی ہوتی ہے۔ جبکہ ایک محمد اشفاق نامی شخص کے بھائی کی فساد میں موت ہوگئی تھی، جس کی لاش کئی روز بعد پولیس نے حوالے کی، مگر نہ ہی اس کی ایف آئی آر کی گئی اور نہ ہی اسے ابھی تک معاوضہ ملا۔ متاثرین کمیٹی کے سامنے اپنی آپ بیتی سنائی، جس پر امانت اللہ خان نے فوراً کارروائی کی ہدایت دی۔ امانت اللہ خان نے یہ چبھتا ہوا سوال بھی افسران سے کیا کہ اگر کسی کی غیر فطری موت ہوئی ہے تو ایف آئی آر اس کی بھی ہوتی ہے، پھر اس سکندر نامی شخص کی ایف آئی آرکیوں پولیس نے درج نہیں کی جس کی فساد کے دوران مشتبہ حالت میں لاش ملی اور میڈیکل رپورٹ میں اسے بری طرح زدوکوب کئے جانے کا ذکر ہے؟چیئرمین امانت اللہ خان نے تینوں متاثرین کے کیس کا معائنہ کرنے اور کارروائی کرنے کے احکامات دیئے۔

پندرہ پنڈنگ کیسوں میں سے 12میں ہوئی ایف آئی آر

گزشتہ میٹنگ کے دوران کمیٹی کے علم میں ایسے 15 کیس لائے گئے تھے، جن کی ایف آئی آر پینڈنگ تھی۔ آج میٹنگ کے دوران کمیٹی کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ 12کیسوں میں ایف آئی درج کرلی گئی ہے جبکہ کل 3کیس باقی ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 16, 2020 09:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading