ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کی شیو راج حکومت میں کسانوں کے ساتھ دھوکہ، نقلی کھاد کی گئی فروخت

مدھیہ پردیش میں نقلی کھاد اور کسانوں کے مسائل کو لیکر سیاسی پارٹیوں کے دعوے اور وعدے چاہے جو بھی ہوں، لیکن یہ سچ ہے کہ ایک سال میں 12000 نمونوں میں سے 900 نمونے فیل ہوئے ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کی شیو راج حکومت میں کسانوں کے ساتھ دھوکہ، نقلی کھاد کی گئی فروخت
مدھیہ پردیش کی شیو راج حکومت میں کسانوں کے ساتھ دھوکہ، نقلی کھاد کی گئی فروخت

بھوپال: مدھیہ پردیش کی سیاست کسانوں کے ارد گرد گردش کرتی ہے، لیکن کسانوں کے مسائل ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ پہلے اناج کی خریداری میں تاخیر اور پھر بارش میں کھلے آسمان کے نیچے کسانوں کے اناج کی بربادی، ٹڈیوں کے قہر سے کسان کسی طرح نکلے بھی نہیں تھے، نقلی کھاد کے مسائل نے اسے گھیرلیا۔ کسان اپنے فصلوں کو توانا بنانےکے لئے اس میں کھاد کا استعمال کرتے ہیں، لیکن جب کسان کو کھاد کے نام پر مٹی فروخت کی جانے لگے تو آپ اسے کیا کہیں گے۔ مدھیہ پردیش میں ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔


صوبہ میں کسانوں کو کھاد فروحت کرنے والی کمپنیاں کسانوں کے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کر رہی ہیں، اس کا انکشاف تب ہوا، جب 1200 نمونوں میں سے 900 نمونے فیل ہوگئے ہیں۔ کھاد کی بوریوں  میں مقررہ مقدار سے کم اشیا جانچ میں پائی گئیں تو کسانوں کے پیروں سے زمین نکل گئی اور یہ گڑبڑی سپر فاسفیٹ اور ڈی اے پی کھاد میں دیکھنے کو ملی ہیں۔ نقلی کھاد کا معاملہ مدھیہ پردیش میں کب سے جاری ہے، یہ تو جانچ کے بعد پتہ چلےگا، لیکن کسانوں کو اس سے دوہرے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو کسانوں کا پیسہ برباد ہوا دوسرے پیدا وار میں بھی بڑی کمی درج کی گئی ہے۔


صوبہ میں کسانوں کو کھاد فروحت کرنے والی کمپنیاں کسانوں کے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کر رہی ہیں، اس کا انکشاف تب ہوا، جب 1200 نمونوں میں سے 900 نمونے فیل ہوگئے ہیں۔
صوبہ میں کسانوں کو کھاد فروحت کرنے والی کمپنیاں کسانوں کے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کر رہی ہیں، اس کا انکشاف تب ہوا، جب 1200 نمونوں میں سے 900 نمونے فیل ہوگئے ہیں۔


مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل کہتے ہیں کہ نقلی کھاد کی جو بات آپ کر رہے ہیں اس کی جانچ جاری ہے اور اب تک ایک سو سینتالیس (147) ڈیلروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کو کینسل کیا گیا ہے۔ آگے بھی کارروائی جاری رہے گی۔ نقلی کھاد فروخت کرنے کے معاملے میں جبلپور، چھندواڑہ، سیونی، ساگر، دیواس، کھرگون، اجین، رتلام، گوالیار، شیوپوری، مرینہ ہردا میں نقلی کھاد فروحت کرنے والے ڈیلروں کےخلاف کاروائی کی گئی ہے۔ ہرداکے پورے ضلع میں نقلی کھاد فروخت کی گئی اور اس کا پتہ تب چلا جب ہم نے کسانوں کی شکایت پر اس کے نمونہ جبلپور لیب میں جانچ کے لئے بھیجے۔ اس گورکھ دھندے میں ڈیلروں کے ساتھ بڑی بڑی کمپنیناں بھی شامل ہیں۔ ان کمپینوں کو کمل ناتھ حکومت میں شیلٹر دیا گیا تھا۔ کمل ناتھ  حکومت نے کسانوں کی بات کی، لیکن کسانوں کےلئے کوئی کام نہیں کیا۔ کسانوں کو 15 مہینے تک دھوکہ میں رکھا گیا۔ یہ تو شیوراج سنگھ کی حکومت ہے، جس میں دھوکہ دینے والوں کے خلاف کاروائی جاری ہے اورجن جن لوگوں نے بھی کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، سب کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل کہتے ہیں کہ نقلی کھاد کی جو بات آپ کر رہے ہیں اس کی جانچ جاری ہے اور اب تک ایک سو سینتالیس (147) ڈیلروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کو کینسل کیا گیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت کمل پٹیل کہتے ہیں کہ نقلی کھاد کی جو بات آپ کر رہے ہیں اس کی جانچ جاری ہے اور اب تک ایک سو سینتالیس (147) ڈیلروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کو کینسل کیا گیا ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر زراعت سچن یادو کہتے ہیں کہ شیوراج حکومت کسانوں کو گمراہ کرنےکا کام کررہی ہے۔ نقلی کھاد کو چیک کرنے کے لئے لیب جبلپور،گوالیار، بھوپال، اندور، ساگر اور اجین میں کانگریس حکومت نے ہی قائم کی تھی۔ 4 مہینے سے صوبہ میں شیوراج سنگھ کی حکومت ہے اور ایسا کون ساکام کیا گیا ہے، جس سے کسانوں کو راحت ملی ہو۔ جن ڈیلروں کی بات شیو راج سنگھ حکومت کر رہی ہے، ان کو تو اسی سرکار نے ڈیلرشپ دی ہے۔ کسانوں کو گیہوں خریدنے کے نام پر دھوکہ دیاگیا۔ مہینوں گزرنے کے بعد اب تک کسان اپنی فیصل کے دام لینےکے لئے منڈی کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ٹڈیوں نے فصل برباد کی، لیکن کسی کسان کو معاوضہ نہیں دیا گیا۔ نقلی کھاد کے معاملےکو کانگریس نے ہی اٹھایا تھا اور کانگریس نے ہی اس کی جانچ شروع کی تھی۔ حکومت کو چاہئےکہ نقلی کھاد کے دھندے میں جو لوگ بھی شامل ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ مگر اس معاملے میں کارروائی اس لئے نہیں ہوگی کیوںکہ اس میں کچھ بی جے پی کے بڑے لوگوں کے پاس ہی ڈیلرشپ موجود ہے۔

سابق وزیر زراعت سچن یادو کہتے ہیں کہ شیوراج حکومت کسانوں کو گمراہ کرنےکا کام کررہی ہے۔
سابق وزیر زراعت سچن یادو کہتے ہیں کہ شیوراج حکومت کسانوں کو گمراہ کرنےکا کام کر رہی ہے۔


مدھیہ پردیش میں نقلی کھاد اورکسانوں کے مسائل کو لیکر سیاسی پارٹیوں کے دعوے اور وعدے چاہے جو بھی ہوں، لیکن یہ سچ ہے کہ ایک سال میں 12000 نمونوں میں سے 900 نمونے فیل ہوئے ہیں۔ سابقہ حکومت نے بھی  اس معاملے میں پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور موجودہ حکومت نے بھی کچھ ہی اضلاع کے ڈیلروں کے خلاف کاروائی کی ہے جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ نقلی کھاد کو فروخت کا گورکھ دھندا پورے مدھیہ پردیش میں پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہےکہ کھادکی ریک جب ریل سے اترتی ہے، تبھی اس کے نمونوں کی جانچ کی جانی چاہئے تاکہ نقلی کھاد کو کسانوں کے پاس جانے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ کسانو ں کے پاس کھاد جانےکے بعد جب اس کی جانچ کی جاتی ہے، تب تک کسان اپنی کھاد کا 70 فیصد حصہ کھیت میں استعمال کر چکا ہوتا ہے اورتب تک کمپنیاں بہت کچھ لے دےکے لیب کو مینج کر لیتی ہیں اور کسانوں کا جو نقصان ہوتا ہے اس کی طرف نہ کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے اور نہ ہی سننے والا۔ کسان کو اپنا غم خود سہنا پڑتا ہے اور کئی بار فصل خراب ہونے پر کسان خود کشی کرکے اپنی زندگی کو ختم بھی کر لیتے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 22, 2020 06:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading